کے لئے مستعد رہتے تھے۔
یہاں سے ملاقاتوں کے بعد کمرے پر جاتے، کھا نے کے بعد کچھ دیر چہل قدمی کرتے ، اکثر حضرت مولانا کے علاوہ ہم سب کھانے کے بعد ٹھنڈا پیتے اس کے بعدسوتے تھے، ایک روزمولانا علیہ الرحمہ کے شیخ حضرت مولانا عبد الواحدصاحب مدظلہ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے مولانا مفتی عاصم عبدا ﷲ صاحب تشریف لائے،اﷲ نے مفتی صاحب کیلئے حرمین شریفین کی حاضری بہت سہل اور آسان فرمادی ہے بکثرت عمرہ اور حج کی دولت سے سرفراز ہوتے رہتے ہیں ، اس کے بعد بھی ان سے بار بار ملاقات ہوتی رہی ، ایک دو بار ان کے کمرے پر بھی گیا۔
ایک روز ہمارے دوست مفتی محمد ساجد صاحب کشی نگری کا فون آیا کہ میں تمہاری بلڈنگ کے پاس کھڑا ہوں ، میں نیچے جاکر ان کو لے آیا، یہ دار العلوم دیوبند میں مشکوٰۃ شریف اور دورۂ حدیث میں ہمارے ساتھی تھے ، بہت باغ وبہاراور صاحب ذوق آدمی ہیں ، ان کے والد صاحب حاجی محمدحامدصاحب ہاٹا کشی نگر کے ایک دیندار صاحب ثروت، مخیر اور مشہورتاجر ہیں ، تبلیغی جماعت کے صف اول کے لوگوں میں ان کا شمار ہوجاتا ہے، اس سلسلے میں ان کی قربانیاں بے مثال ہیں ،مفتی ساجد صاحب کا قیام مدرسہ صولتیہ میں تھا ، ایک روز انھوں نے ناشتے کی دعوت کی ، وہیں مفتی سلمان صاحب منصورپوری ،مفتی شبیر احمد صاحب مدرسہ شاہی وغیرہ کا بھی قیام تھا ،اس وقت یہ دونوں حضرات آرام فرمارہے تھے، بعد میں مفتی سلمان صاحب سے متعدد مرتبہ ملاقات ہوئی۔ وہیں ہمارے دوست مفتی محمد عادل صاحب دیوریاوی بھی تھے جو حضرت حکیم کلیم اﷲ صاحب علی گڑھ اور حضرت مولانا قاری امیر حسن صاحب علیہ الرحمہ کے ہمراہ آئے تھے، پہلی مرتبہ یہیں ان دونوں عظیم المرتبت بزرگوں سے ملاقات وہمکلامی کا شرف حاصل ہوا، ملاقات تو بہت مختصر رہی ، لیکن ان کی توجہ وعنایت اور نوازش کا نقش اب تک قلب وذہن پر موجود ہیں ، میں نے بوقت رخصت دعا کی درخواست کی دونوں بزرگوں نے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا، دل اب تک