طواف کا معمول تھا ، مغرب سے کچھ پہلے جب بھیڑ بہت بڑھ جاتی تو مطاف سے نکل آتے ، مغرب کے بعد کبھی حرم سے باہر چلے آتے اور اکثر وہیں تلاوت کرتے ۔
عشا کے بعد حضرت مولانا کا معمول ایک طواف کرنے کا تھا کہ اس وقت بھیڑ قدرے کم ہوتی تھی ، اس میں آدھ پون گھنٹہ لگتاتھا ، میں اس وقت مطاف میں کعبہ سے جتنا قریب ہوسکتا تھا ہوکر بیٹھ جاتا ہے اور اسے دیکھتا رہتا ، لوگ پروانہ وار اس کے اردگرد چکر لگاتے تھے ، میں سوچتا رہتا تھا کہ اس عمارت میں کیا چیز اﷲ نے رکھ دی ہے کہ جمال محبوبیت اس پر نچھاور ہواجاتا ہے اور روزانہ اتنی دیر تک دیکھنے کے بعد بھی آنکھیں سیر نہیں ہوتیں اور دل نہیں بھرتا ،میں اپنی خوش بختی پر رشک کرتا اور اﷲ کا بے حد شکر ادا کرتا کہ اس نے اپنے ایک گنہگار بندے کو محض اپنی نوازش اور اپنے فضل وکرم سے اس سعادت عظمیٰ سے ہمکنار فرمایا ، فللّٰہ الحمد حمدا کثیرا طیبامبارکا فیہ
وہاں سے اٹھتے تو حرم کے باہر باب عبد العزیز کے سامنے حضرت مولانا ٹھہرتے ، یہاں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوتیں ، خصوصاً مولانا محمد یونس صاحب( سرائے میر) جو انڈین حج مشن میں ایک ذمہ دار عہدے پر فائز ہیں ، حضرت مولانا نے اپنے سفر قدس (سفرحج ۲۰۰۶ء) میں ان کاذکرخیر بکثرت کیا ہے۔یہ اکثرہم لوگوں کو لے کر ہلٹن ہوٹل چلے جاتے اور نہایت نفیس قسم کی چائے پلاتے۔ ایک دوبار کھانا پکواکر قیام گاہ پر لائے، غرض جو کچھ ان سے ممکن ہوتا اس سے دریغ نہ کرتے ،چونکہ حج کے زمانے میں ان کی مصروفیات حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں اس لئے کہاکرتے تھے کہ وقت نہ ہونے کی وجہ سے میں خاطر خواہ خدمت نہیں کرپاتاہوں ۔
حضرت مولانا کے ایک شاگرد مولوی محمد فاروق صاحب جو جدہ میں رہتے ہیں اور گورینی میں حضرت مولانا سے پڑھا تھا ، مولانا فرماتے تھے کہ فاروق نے زمانہ طالب علمی میں میری بے مثال خدمت کی ہے، وہ کئی بار کھانا پکواکر لائے اور اتنا زیادہ لاتے تھے کہ کئی روز کے لئے کافی ہوجاتاتھا ، اسی طرح پورہ معروف کے مولانا رضوان صاحب بھی خدمت