اہل مکہ کیلئے بہت تعجب کی چیز تھی کہ اتنی سویرے آپ لوگ سوجاتے ہیں ۔ مفتی عبد الرحمن صاحب کہتے کہ مکہ میں بھی کوئی بارہ ایک سے پہلے سوتا ہے، لیکن ہم لوگ معمولاً پابندی سے گیارہ بجے سے پہلے پہلے سوجاتے تھے، اور صبح صادق سے کم ازکم ایک گھنٹہ پہلے اٹھ جاتے ، الحمد ﷲ پورے سفر میں ایک روز بھی اس کے خلاف نہیں ہواکہ صبح کی دوچار رکعتیں نہ نصیب ہوئی ہوں ۔
ابھی حج میں دوتین ہفتے باقی تھے،ہم چاروں یعنی میں اورمولانا کے تینوں صاحبزادگان کی کوشش یہی رہتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ طواف کریں ،کوشش رہتی تھی کہ دس طواف تو ہوہی جائے اکثر یہ ہدف پورا ہوجاتا تھا ، ہم لوگوں میں مولوی راشد سب سے تیز طواف کرتے تھے اور پہلے نمبر پر رہتے تھے ، لیکن حضرت مولانا کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو اس سے منع کردیا کہ حج سے پہلے اتنی محنت مناسب نہیں ، اعتدال کے ساتھ طواف کرو ورنہ اصل عبادت حج ہے اس سے پہلے ہی تھک جاؤگے یابیمار پڑجاؤگے تو اس پر اثر پڑے گا ،ہاں حج کے بعد جتنا چاہو طواف کرو ،عمرہ کرو کوئی حرج نہیں ، اس کے بعد اس میں یک گونہ اعتدال پیدا ہوگیا ورنہ ہم لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں حد اعتدال سے تجاوز کرجاتے تھے۔
قیام مکہ کے معمولات یہ تھے کہ صبح صادق سے ایک گھنٹہ پہلے حرم پہونچ جاتے تھے نمازفجر اور تلاوت سے فارغ ہونے کے بعد طواف کرتے ،اور طلوع آفتاب کے ایک آدھ گھنٹہ بعد ہی کمرے پر جانے کا معمول تھا، اس کے بعد دوتین گھنٹے آرام کرنے ،نہانے دھونے اور دیگر ضروریات میں صرف ہوجاتے تھے، زوال سے پہلے پھر حرم حاضر ہوجاتے تھے ، اگر ایک طواف کاوقت رہتاتو طواف کرتے ورنہ تلاوت یاذکر کرتے ، اذان کے فوراً بعد نماز ہوتی ،چار رکعت سنت بھی بمشکل ہی پڑھ پاتے ، وہاں سب سے زیادہ وقفہ سنتوں کیلئے مغرب میں ملتا ہے، باطمینان چار رکعت یا اس سے بھی زیادہ پڑھی جاسکتی ہیں ۔ ظہر کے بعد کمرے پر آکر کھانے اور سونے کا معمول تھا ، عصر کے وقت حرم آجاتے اور نماز کے بعد