اس خدمت پر اپنے شایان شان اجر عطا فرمائیں ۔آمین
ایک روز ایک عجیب واقعہ ہوا، رات میں معمول سے پہلے ہی آنکھ کھل گئی ، ایک یا ڈیڑھ بج رہا تھا ، اسی وقت اٹھا اور وضو کیا مسجد نبوی شریف روانہ ہوگیا ، بقیع کی طرف سے گیا اس وقت بالکل سناٹا تھا ، سلام پڑھ کر جس دروازے سے نکلتے ہیں اسی سے اندر داخل ہوگیا اس وقت کوئی پہریدار موجود نہ تھا ورنہ ادھر سے داخل ہونا ممکن نہ ہوتا ، اتفاق ایسا کہ اس وقت کوئی ایک فرد بھی موجود نہ تھا میں سیدھے ازیادِشوق میں بالکل روضہ شریف کی جالی کے پاس چلا گیا اور اس قدراطمینان سے صلوۃ وسلام پڑھا کہ اس سے پہلے اور پھر اس کے بعد ایسا اطمینان میسر نہ آسکا، لیکن کچھ دیر کے بعد دل پر ایسی ہیبت طاری ہوئی بیان نہیں کرسکتا ، رات کا سناٹا،رسول اﷲ ا کے قرب کا احساس اور پھر اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا خیال ، ان سب نے مل ملاکر ایسی کیفیت پیدا کردی کہ بدن پر کپکپی طاری ہوگئی اور کسی طرح سلام ودعا کے بعد واپس ہوا ، پھر اتنی قریب جانے کی ہمت نہیں ہوئی، اوربعدمیں بھیڑ زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ ممکن بھی نہ رہا ، اب بھی جب اس کا خیال آجاتا ہے تو دل کی حالت بدل جاتی ہے کہ ایک گنہگار اپنے آقا کے اتنے قریب کیسے پہونچ گیا؟
مسجد میں حاضری کے دوران روضۂ رسول کے قریب ایک چبوترے پر لوگوں کی بھیڑ دیکھتا تھا کہ لوگ اس پر تلاوت کررہے ہیں ، ذکر واذکار اور دعامیں مشغول ہیں ، مشہور تھا کہ یہی وہ چبوترہ ہے جس پر اصحاب صفہ رہتے تھے ، اس کے بعد بھی ایک چبوترہ ہے جو حجرۂ فاطمہ سے متصل ہے ، میں نے حضرت مولانا سے دریافت کیا کہ یہ دوسرا چبوترہ کون سا ہے؟ فرمایا کہ وہ چبوترہ جسے لوگ اصحاب صفہ کا چبوترہ کہتے ہیں اس کی نسبت ان کی طرف مشکوک ہے ، اس لئے صفہ کے معنی چبوترہ کے نہیں چھپر اور سائبان کے ہیں ، جسے عربی میں عریش کہتے ہیں ، اور وہ بڑی وسیع جگہ تھی جس میں ستر ستر صحابہ سوتے تھے جیسا کہ مسلم شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے ، مولانا نے فرمایا کہ یہ چبوترہ مسجد سے باہر تھایعنی رسول اﷲ ا کے عہد مبارک میں مسجد کی جو حدتھی اس سے باہر تھا اور یہ چبوترہ مسجد کے اندر ہے ، آج بھی