ھذا حد مسجد رسول اﷲ ﷺ کے ذریعہ عہد نبوی کی مسجد کی حدود کو جانا جاسکتا ہے کہ جو حد اس وقت تھی وہاں ستونوں پر یہ تحریر لکھ کر اس کو واضح کیا گیاہے۔
اسی وقت ایک کتاب ملی ’’ مدینہ منورہ کے تاریخی مقامات‘‘ اس سے بھی حضرت مولانا کی بات کی تائید ہوئی ، اس کی تحقیق کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ چبوترہ اسطوانہ عائشہ سے پانچ ستون کے بعد جانب شمال میں تھا اور جب ۷ھ میں رسول اﷲا نے مسجد کی توسیع فرمائی تو یہ چبوترہ مزید دس میٹر جانب شمال منتقل کردیا گیا ۔ مولانا نے بتایا کہ یہ چبوترہ جسے لوگ اصحاب صفہ کا چبوترہ سجھتے ہیں یہ نور الدین زنگی نے روضہ کے محافظین کیلئے بنوایا تھا ، یہ ’’صفۃ الاغوات‘‘ کہلاتا تھا ، اس پر اغوات ( محافظین ) بیٹھا کرتے تھے۔ وہ چبوترہ جس کے بارے میں مَیں نے سوال کیا تھا یہ بالکل روضہ کی دیوار سے متصل ہے ، حافظ محمد مسعود صاحب نے بتایا کہ یہ حجرۂ فاطمہ کا صحن تھا۔
مدینہ شریف کے زمانۂ قیام میں اس بات کا بہت اہتمام رہا کہ ان آٹھ دنوں کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنایا جائے ،اور زیادہ اوقات مسجد ہی میں گزریں ، چنانچہ وہیں تلاوت الحزب الاعظم ، درود شریف ودیگراذکار و اورادکا معمول جاری رہا، اﷲ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اسے قبول فرمائیں ۔آمین
ایک روز دوپہر میں حافظ محمد مسعود صاحب اونٹ کا گوشت پکاکر لائے ، سب لوگوں نے شوق سے کھایا ، چونکہ ہمارے اطراف میں اونٹ کا گوشت نہیں ملتا اس لئے اس کی ایک اہمیت ہے، مجھے تواس میں اور گائے بھینس کے گوشت میں اس کے علاوہ کچھ اور فرق نہیں محسوس ہوا کہ اس کے ریشے قدرے بڑے تھے۔ رات میں تاخیر سے سوئے اور اٹھنا وقت پر ہوا جس کی وجہ سے طبیعت میں گرانی اور سستی تھی ، فجر کے بعد سوچا کہ حضرت مولاناکے پاس چلوں اسی ارادے سے اٹھا تو دیکھا کہ میرا پھوپھی زاد بھائی طالب رضا چلا آرہا ہے اس کی فلائٹ ہم لوگوں سے تین روز بعد تھی ، اس سے میں نے اپنی صدری منگوائی تھی ، جس روز مدینہ پہونچے اس کے دوسرے روز خوب بارش ہوئی اور صبح کے وقت کافی