بڑے باغ وبہار آدمی ہیں ، ان کا تذکرہ حضرت مولانا نے اپنے ایک سفر میں کیا ہے، انھوں نے ایک روز کھانے کی دعوت دی ،اور بہت اہتمام سے دعوت کھلائی۔ ان کے ساتھ ان کے ایک دوست محمد خالد صاحب بھی تھے ، جو مجمع ملک فہد میں ملازم ہیں ، ایک روز ان کے یہاں بھی دعوت رہی۔ مدینہ منورہ کے زمانۂ قیام میں مسلسل دعوتیں رہیں ، حافظ محمد مسعود صاحب ، ڈاکٹر شمیم صاحب ، مفتی عاشق الٰہی صاحب مولانا حفظ الرحمن صاحب اور دیگر حضرات مسلسل دعوتیں کرتے رہے، ان میں سب سے بڑھ کر کراچی پاکستان کے رہنے والے الحاج سیدنسیم صاحب تھے ، وہ تو روزانہ رات میں سب کیلئے کھانا پکواکر لاتے ، ان سے منع کیا گیا تو کہنے لگے کہ اچھا جس روز کہیں دعوت نہ رہے اس روز اتنی زحمت کردیا کیجئے کہ بتادیجئے، میں اس اس روز کھانا لاؤں گا، اس طرح کئی دن انھوں نے اس خدمت کی سعادت حاصل کی، سعادت اس لئے کہہ رہا ہوں کہ واقعی وہ اس کو سعادت ہی سمجھ کر کرتے ہیں ، ایسی بے لوث اور مخلصانہ محبت کرنے والے نایاب تو نہیں لیکن بہت کمیاب ہوتے ہیں ، نسیم بھائی کسی پریس میں ملازم ہیں ، اس لئے بہت مصروف رہتے ہیں ، شام کو جب فرصت ملتی تو عشا بعد تشریف لاتے ہیں ، گورے چٹے نہایت وجیہ، ان کے ظاہر کی طرح ان کا باطن بھی نہایت صاف ستھرا محسوس ہوا، بعد میں مَیں نے ان کے پاس حضرت مولانا کی تقریباًساری کتابیں بھیجیں جس کے بعد ان سے یہ تعلق نہایت گہری محبت میں بدل گیا ، ان کتابوں سے انھوں نے بھی اور ان کی اہلیہ محترمہ نے بھی ۔۔۔۔۔جو خود بہت پڑھی لکھی صاحب قلم خاتون ہیں ۔۔۔۔۔۔بہت فائدہ اٹھایا، بعد میں انھوں نے جو خطوط حضرت مولانا کو اصلاحی تعلق کے سلسلے میں لکھے یا بعض کتابوں پر اپنے تاثرات ظاہر کئے اس سے ان کے قلم کی روانی کا اندازہ ہوا، انھوں نے حضرت مولانا کی وفات پر کئی صفحے کا بڑا درد انگیز اور پُراثر تاثراتی مضمون لکھا جو انشاء اﷲ حضرت مولانا پر شائع ہونے والے خصوصی شمارہ میں شائع ہوگا۔بہر حال ان دونوں میاں بیوی کی محبت وشفقت اب بھی ویسے ہی باقی ہے جیسے حضرت مولانا کی حیات میں تھی ، دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ انھیں دین ودنیا کی ہرصلاح وفلاح سے نوازیں اور