بعد سات بجے کے قریب ریاض الجنہ میں حاضر ہواتو بہت آسانی سے اشراق پڑھنے کی جگہ مل گئی ، جب جب ریاض الجنہ میں جگہ ملی پورے خشوع والحاح کے ساتھ نماز پڑھی اور دعائیں کیں ۔
کمرے پر آئے تو مولانا حفظ الرحمن صاحب ابراہیم پوری ملاقات کیلئے تشریف لائے ، اور دوپہر کا کھانا انھوں نے کھلایا، ظہر کیلئے مسجد گئے تو پھر عشا پڑھ کر ہی واپسی ہوئی ۔ بلڈنگ کی لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے زینوں کو استعمال کرنا جس کی وجہ سے حضرت مولانا کے پیروں میں تکلیف ہوگئی اور عصر میں مسجد تشریف نہ لاسکے، حضرت مولانا کا معمول یہ تھا کہ کمرے پر جلالین شریف کی شرح کا کام کرتے رہتے تھے اورہم لوگوں کو مدینہ منورہ میں رہنے کے آداب اور یہاں کے وقت کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کی تاکید کرتے ، ایک بات کی بہت تاکید فرماتے کہ یہاں بلند آواز سے نہ بولا کرو، خصوصاً مسجد نبوی میں تو اگر کسی کی آواز بلند ہوجاتی تو فوراً روک دیتے ، ایک مرتبہ کہنے لگے کہ حضرت عمر فاروقؓ اگر کسی کو زور سے بولتے ہوئے سن لیتے تو کنکری مار کر خاموش کرتے، اور کہتے کہ جناب رسول اﷲ ﷺ یہیں آرام فرمارہے ہیں اس لئے یہ سخت بے ادبی کی بات ہے، حضرت مولانا کو اﷲ تعالیٰ کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے اور یوماً فیوماً ان کے درجات بلند فرمائے ان کی برکت سے یہ سفر سعادت واقعی سفر سعادت بن گیا ، ہمہ وقت ہم لوگوں کی نگرانی فرماتے رہتے ۔ یہ نگرانی کم ازکم میرے حق میں صرف اسی سفر کی بات نہ تھی بلکہ پوری زندگی میرے حق میں ان کا یہی معمول تھا ، جہاں کسی قسم کی کوئی کمی کوتاہی دیکھتے فوراً اس پر تنبیہ فرماتے اور اس کی اصلاح کرتے،انداز اتنا پیارا ہوتا کہ کبھی کوئی خفت اور گرانی نہیں ہوئی، کھانے پینے ، اٹھنے بیٹھنے سے لے کر نماز وتلاوت ہرہرچیز میں طریقۂ سنت کی اتباع کی ہدایت کرتے ،آج جب یہ سطریں لکھ رہا ہوں اورمولانا ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ان کی ایک ایک ادا یاد آتی ہے اوردل مسوس کر رہ جاتا ہے ،اور ان کے لئے دعاؤں میں ڈوب جاتا ہے۔
آج عشا کی نماز کے بعد مفتی عاشق الٰہی صاحب مہراج گنجی سے ملاقات ہوئی ،