کھنچی جارہی تھیں ، باب ملک فہد سے داخل ہوئے اور چھتری والے حصے میں بیٹھ گئے ،نماز تہجد ادا کی ۔پانچ بج کر دس منٹ پر فجر کی اذان ہوئی اور ۲۰؍ منٹ کے بعد نماز ہوئی ، حرم مکی میں یہ وقفہ قدرے مختصر ہوتا ہے، ائمہ حرم نہایت سکون واطمینان سے نماز ادا کرتے ہیں ، قومے اورجلسے میں حدیث میں وارد شدہ دعاؤں کے پڑھنے کا پورا اہتمام کرتے ہیں ، ادھر ہندوستان کے لوگ جو اس کے بالکل عادی نہیں ہوتے رکوع اور سجدے میں چلے جاتے ہیں ۔ نماز کے بعد حضرت مولانا کے ہمراہ مواجہ شریف کی طرف چلے ، اپنی سیہ کاری وبدعملی کی وجہ سے ڈرتے ہوئے اور گناہوں سے توبہ کرتے ہوئے مولانا کے نقش قدم پر چلتے رہے ، مواجہ شریف کے سامنے پہونچ کر صلوٰۃ وسلام اور جو کچھ عرض معروض کرنی تھی کی گئی ، اﷲ محض اپنے فضل وکرم سے ہمیں نبی اکی شفاعت نصیب فرمائے ،آمین
وہاں سے قیام گاہ پر آکر تھوڑی دیر آرام کیا گیا، دس بجے کے قریب حضرت مولانا کے مخلص پاکستانی دوست مولاناحافظ محمدمسعود صاحب مدظلہ جو ایک عرصہ سے وہیں مقیم ہیں تشریف لائے، اور ایک پاکستانی ہوٹل میں لے جاکر کھانا کھلایا، کھانے سے فارغ ہوکر نماز ظہر کیلئے مسجد میں حاضر ہوئے ، ظہر،عصر، مغرب اور عشاء کی نمازباجماعت مسجد نبوی میں ادا کی گئی ، نماز کے علاوہ اوقات میں تلاوت قرآن اور دیگر اوراد وردِ زبان رہے۔ عشاء کی نماز پڑھ کر قیام گاہ پر آگئے ۔
صبح ڈھائی بجے آنکھ کھلی ، اسی وقت مسجد چلا گیا ، بھیڑ بالکل نہیں تھی ، نہایت اطمینان سے صلوۃ وسلام پڑھا ، پھر ریاض الجنہ میں آکر تہجد کی نماز ادا کی، اﷲ کا خصوصی فضل وکرم اس پورے سفر حج میں شامل حال رہا کہ ہر جگہ سہولت رہی ، بار بار بسہولت ریاض الجنہ میں نماز ودعا کی سعادت حاصل ہوئی ۔ اب مسجد نبوی ساری رات کھلی رہتی ہے ، پہلے ایسا نہیں تھا ، باب السلام اور باب البقیع رات بھر کھلے رہتے ہیں ، ہم لوگوں کی قیام گاہ چونکہ مسجد سے جانب مشرق میں ہے اس لئے باب البقیع سے داخل ہوا۔ چار بج کر دس منٹ پر تہجد کی اذان ہوئی ، معلوم ہوا کہ صبح صادق سے ایک گھنٹہ قبل تہجد کی صرف اذان ہوتی ہے جماعت نہیں ۔ فجر کے