(۷) ان حضرات سے تقریباً ۷۵؍ میٹر کی دوری پر شہداء حرہ کا مدفن ہے ، جو پتھروں کے ایک مستطیل حظیرہ میں ہے ۔ یہ مدینہ شریف کے وہ بزرگ اور برگزیدہ حضرات ہیں ،جو یزید بن معاویہ صکے دورِ حکومت میں مدینہ کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔
(۸) شہداء حرہ سے تقریباً ۱۳۵؍ میٹر کے فاصلے پر امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ص کی قبر شریف ہے۔
(۹) امیر المومنین حضرت عثمان بن عفان ص کی قبر شریف سے تقریباً ۵۰؍ میٹر کے فاصلے پر شمال میں حضرت سعد بن معاذص کامدفن ہے۔
(۱۰) حضرت عثمان بن عفان ص کی قبر شریف کے شمال مشرق میں ،اس راستہ پر جو شہداء حرہ کی طرف جاتا ہے ، حضرت ابوسعید خدری ص اوررسول اکرم ا کی رضاعی ماں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اﷲ عنہا کی قبر ہے۔
(۱۱) جنت البقیع کے صدر دروازے میں داخل ہوتے ہی بائیں جانب شمال میں ، بقیع کی چہار دیواری کے قریب ، حضرت ا کی دوپھوپھیاں
(۱) حضرت صفیہ رضی اﷲ عنہا( والدۂ حضرت زبیر بن عوام ص) اور
(۲) حضرت عاتکہ رضی اﷲ عنہا
کی قبریں ہیں ۔
یہ وہ مبارک قبرستان ہے ، جس میں ہزاروں صحابہ ، ہزاروں تابعین دفن ہیں ، رسول اکرم ا نے بقیع میں دفن ہونے والوں کے لئے مغفرت کی دعا بھی کی ہے ، اور ان کے لئے بشارتیں بھی دی ہیں ، چنانچہ ارشاد ہے: اللھم اغفرلی لاھل بقیع الغرقد، روا ہ مسلم ، اے اﷲ ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرمادیجئے( مسلم ) اور آپ نے حضرت ام قیس بنت محصن سے فرمایا :أترین ھٰذہ المقبرۃ یبعث اﷲ منہا سبعین ألفاً یوم القیامۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البدر یدخلون الجنۃ بغیر حسا ب ( رواہ الحاکم فی المستدرک ،ج:۴، ص: ۵۶۸، والطبرانی فی الکبیر ، ج:۲۵، ص: ۱۸۱) تم اس مقبرے کو دیکھ رہی ہو ،