ایک روز شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب محدث نور اﷲ مرقدہٗ کے صاحبزادے ، جو سادگی اور معصومیت کے گویا پیکر ہیں ، حضرت مولانا طلحہ صاحب سے ملاقات ہوئی ، بڑی ادائے دلنواز سے ملے، ان کی قیامگاہ پربھی حاضری ہوئی، جوشِ میزبانی میں بچھے جاتے تھے ، خوب باتیں کررہے تھے ، سادہ اور معصوم لہجے میں خوش طبعی اور ظرافت کی لطافت لفظ لفظ میں رَس گھول رہی تھی، نہایت بزرگ ،ا ﷲ کی یاد میں غرق ، مگر مخلوق کے حقوق کے پورے امانت دار! جتنی دیر ان کی صحبت میں رہے ، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا ہر طرح کے چھکے پنجے ، مکر وریا اور فریب ودغا سے بالکل آزاد ہوچکی ، ایمانی اور روحانی اطمینان کی چادر اس طرح سروں پر تنی ہوئی ہے جیسے اب یہاں کسی غم کا گزر نہ ہوگا ، ان کی مجلس عجب مجلس برکت وکیف رہی ۔
٭٭٭٭٭
مدینہ طیبہ میں ہندوستان کا ایک مقدس اور برگزیدہ خاندان عرصۂ دراز سے آباد ہے ، یہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد حسین احمد صاحب مدنی قدس سرہٗ کا خاندان ہے، بہت دیندار ، بہت خوش حال، بہت فیاض ، بہت خدمت گزار ، نہایت مہمان نواز! حضرت مدنی قدس سرہٗ کے نواسے ، جو مولانا رشید الدین علیہ الرحمہ کے صاحبزادے ہیں ، مولانا اخلد رشیدی صاحب ،مسجدنبوی میں ان سے ملاقات ہوئی ، اﷲ نے ایسی باغ وبہار شخصیت بنائی ہے کہ دیکھتے ہی دل پر ایک سرور کی کیفیت چھاجاتی ہے، ادائے دلنوازی ایسی کہ بس یہی جی چاہتا ہے کہ یہ ایک تبسم کے ساتھ خیریت پوچھتے رہیں ، اور مخاطب اسی راہ سے ان کے قریب ہوتا رہے۔
انھوں نے دعوت دی کہ گھر تشریف لائیں ، یہاں مجال انکار کہاں ؟ سعادت سمجھ کر ہاں کردی، وہاں حاضری ہوئی ، مشائخ اور علماء کا ایک باوقار مجمع تھا ، علم وفضل اور بزرگی ومشیخت کی کہکشاں مولانا اخلد کے یہاں اتر آئی تھی ، حضرت مولانا محمد طلحہ صاحب ، حضرت مولانا محمد عاقل صاحب صدر المدرسین جامعہ مظاہر علوم ، سہارن پور، حضرت مولانا خلیل