پاروں کی شرح ہوئی تھی کہ فالج کا حملہ ہوگیا ، اب اﷲ تعالیٰ نے اس سے شفا دیدی ہے ،مگر دماغ میں ضعف ہوگیا ہے، تھوڑی دیر لکھتا ہوں تو تھکان ہوجاتی ہے، اور دماغ پر غنودگی چھاجاتی ہے، فرمایا …اور روضۂ اطہر کی جانب اشارہ کیا … آئے تو ہو، وہاں کہہ دو ، اتنا سننا تھا کہ میرا دل امنڈآیا ، اور بے تحاشا آنکھوں سے آنسو امنڈ پڑے ، میں نے عرض کیا ، آپ ہی گزارش کردیجئے ، ایک خاص جوش سے فرمایا ، ضرور ضرور، میں خاص طور سے یہ بات عرض کروں گا ، ان شاء اﷲ ، اب امید ہوچلی ہے کہ شرح جلالین پایۂ تکمیل تک پہونچے گی۔
٭٭٭٭٭
ایک روزبعد نمازِ عشاء مسجد نبوی شریف سے باہر نکل رہا تھا ، ساتھ میں چند رفقاء بھی تھے ، مسجد نبوی کے ایک دروازے سے جس کا نام ’’باب مکہ ‘‘ ہے، داخلہ اور نکلنا ہوتا تھا ، دروازے کے قریب پہونچے ہی تھے کہ ایک نورانی پیکر پر نگاہ پڑی ، روشن چہرہ ، نرم بشرہ، ہلکا بدن، میں نے انھیں دیکھا اور وہ مجھے دیکھ رہے تھے ، طبیعت میں اس قدر کشش محسوس ہوئی کہ بے اختیار ان کی خدمت میں جانے کو جی چاہا، لیکن چہرہ شناسا نہ تھا ، اس لئے ہچکچاہٹ محسوس ہوئی ، پھر دیکھا کہ وہ خود ہی اٹھ کر قریب آرہے ہیں ، سلام ہوا ، مصافحہ ومعانقہ ہوا، انھوں نے تعارف چاہا ، میں نے عرض کیا ہندوستان سے حاضر ہوا ہوں ، میں نے ان سے دریافت کیا ، فرمانے لگے، میں عبد المنان ہوں ،پاکستان کا رہنے وال ہوں ، یہیں مدینہ طیبہ میں مقیم ہوں ، نے عرض کیا مولانا عبد المنان صاحب ؟ مجھے آپ سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا ، میرے شیخ حضرت مولانا عبد الواحد صاحب آپ کا ذکر بہت محبت سے کررہے تھے ، اسی وقت اشتیاق ہوگیا تھا ، فرمایا کہ شیخ تو بہت بیماراور معذور ہیں ، لیکن ان کی روحانی طاقت ہے کہ اس حال میں بھی وہ تشریف لائے ۔
پھر فرمایا کہ میں ظہر اور عشاء کی نماز میں حاضر ہوتا ہوں ، اور یہیں بیٹھتا ہوں ، پھر ہرروز ملاقاتیں ہونے لگیں ، بہت کریم النفس ، ظاہر بھی روشن اور باطن بھی نہایت شفاف! ان سے بھی جلالین شریف کی شرح کے لئے دعا کی درخواست کی ۔