حسین میاں صاحب نبیرہ حضرت مولانا سیّد اصغر حسین صاحب محدث، اور ان کے علاوہ دوسرے اصحاب تقویٰ وطہارت ! مولانا اخلد صاحب کی دعوت بہت بابرکت ثابت ہوئی، یہ وہ حضرات ہیں ، جو اﷲ ورسول کے بڑے عاشق اور وفادار ہیں ۔
مولانا اخلد صاحب بہت خوش تھے ، اور بہت مسرت کے ساتھ کھلانے کے انتظام میں لگے ہوئے ، میں جی میں سوچ رہا تھا کہ دعوت کھانے کے بعد حدیث میں ایک دعا وارد ہے، جس میں میزبان کے لئے اﷲ کے حضور ایک خاص عرضی پیش کی جاتی ہے،أفطر عندکم الصائمون وأکل طعامکم الابرار وصلت علیہم الملائکۃ ، آپ کے پاس روزہ دارا فطار کیا کریں ، اور آپ کا کھانا نیک وبرگزیدہ لوگ کھائیں ، اور فرشتے آپ پررحمت کی دعائیں بھیجیں ، مولانا اخلد صاحب کا دسترخوان أکل طعامکم الابرار کی قبولیت کا پورا مظہر ہے، اﷲ تعالیٰ سلامت باکرامت رکھیں ۔
مدینے کے قیام کے آٹھ دن کس طرح نکل گئے ، احساس ہی نہیں ہوا،ابھی تو آئے تھے اور ابھی جانے کا حکم ہوگیا ،آٹھ دن اس طرح اڑ گئے جیسے وہ دن نہیں چند لمحات تھے ، جب مدینہ منورہ کا ایرپورٹ حاجیوں کے لئے استعمال نہ ہوتا تھا، تو مدینہ منورہ سے ایک لمبا سفر کرکے جدہ جانا پڑتا تھا اب آسانی ہوگئی ہے ، قیامگاہ سے نکلے بس پر بیٹھے، اور پندرہ بیس منٹ میں ایر پورٹ پہونچ گئے ، وہاں ہوائی جہاز پر سوار ہوئے اور ساڑھے چار گھنٹے میں بمبئی آپہونچے ، فللّٰہ الحمد والنعمۃ ، ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم،آمین
٭٭٭٭٭