ان کا قدرے ذکر کروں ۔
(۱) مکہ شریف میں میرے لئے سب سے مغتنم ہستی جن سے ملاقات کیلئے میری روح بیقرار رہتی ہے ، وہ میرے شیخ کی ہستی ہے ، وہ ہیں حضرت اقدس مولانا الحافظ شاہ عبد الواحد صاحب دامت برکاتہم ! ادھر دوسالوں سے وہ بہت بیمار رہتے ہیں ، عمر بھی کافی ہے ، اور دوسال میں دوبار فالج کا حملہ ہوچکا ہے، اس سال ایام حج سے پانچ چھ ماہ پہلے شدید حملہ ہوا تھا ، اندیشہ تھا کہ حج کے لئے نہ آسکیں گے ، لیکن مجھے اس وقت خوشگوار حیرت ہوئی جب معلوم ہوا کہ حضرت تشریف لارہے ہیں ، ایام حج سے دوروز پہلے تشریف لائے، ملاقات کے لئے حاضر ہواتو حضرت پر بہت زور کا گریہ طاری ہوا، بڑی عنایتیں فرمائیں ۔
مدینہ شریف میں بھی حضرت کی خدمت میں حاضری رہی ، اﷲ تعالیٰ اس سراپا خیر وبرکت ہستی کو بعافیت تمام رکھے ۔آمین
(۲) ۲۰۰۳ء کی حاضری مدینہ میں ایک صاحب کشف اور بے تکلف بزرگ سے ملاقات ہوئی تھی، اور دل ان سے بہت متاثر ہوا تھا ، ایک مضمون میں ان کا تذکرہ بھی کیا تھا ۔ میرے کرم فرما جناب ڈاکٹر شمیم احمد صاحب اعظمی جو عرصۂ دراز سے مدینہ طیبہ میں شرف اقامت رکھتے ہیں ، انھوں نے ان بزرگ سے بعد نمازِ عشاء ملاقات کرائی ، دیکھتے ہی پہچان گئے ، اور بڑی شفقت وعنایت سے ملے ، اور محبت ومعرفت کی باتیں کرتے رہے ، ان کے پاس بیٹھ کر اور ان باتیں سن کر ایسا احساس ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا میں نہیں ، ہمہ وقت آخرت میں رہتے ہیں ، اﷲ کے حضور اور رسول اﷲ ا کی خدمت میں ! اپنے مکشوفات بیان کرتے رہے، یقین واعتمادکے ساتھ !
میں نے دیکھا کہ حضرت صوفی صاحب بہت کمزور ہوگئے ہیں ، میں نے عرض کی ، حضرت بہت کمزور ہوگئے ہیں ، مسکراکر فرمایا یہاں کمزور دیکھتے ہیں نا ، وہاں (جنت میں ) پہنچوں گا ، تو چھلانگیں لگاؤں گا ،ان شاء اﷲ۔
میں نے ایک ملاقات میں عرض کیا کہ جلالین شریف کی شرح لکھ رہا تھا ، چار