ہواتو کیا ہوا؟ اس گنہگار کا سلام بھی باریابی کا شرف پاہی لے گا، بسااوقات میں باہر گنبد خضرا کے سامنے کھڑا ہوتا ، پھر دل امنڈ امنڈ کر آنکھوں کی راہ برستا رہتا ، محبت نے زبان کو خاموش کردیا تھا ، مگر کیا بتاؤں کی پورا وجود ناطق ہوجاتا تھا ۔
مدینہ منورہ کی سب باتیں ہی خاص ہیں ،رحمۃ للعالمین ا کا سایۂ رحمت پوری فضا پر چھایا رہتا ہے ، اس لئے یہاں کی زمین اور یہاں کے آسمان کا رنگ کچھ اور ہی ہے ، لیکن ایک خاص بات جو مجھے بارہا محسوس ہوئی ہے ، اسے لکھتا ہوں ، کیا عجب کوئی اور صاحب بھی اس کی تائید کریں ۔
مدینہ شریف میں جہاں فضا کی پاکیزگی اور نورانیت کا احساس ہوتا ہے ، وہیں اﷲ کے بہت سے نیک اور پاکیزہ بندوں سے ملاقاتیں بھی ہوجاتی ہیں ، مکہ شریف اور مدینہ شریف دونوں مقاماتِ قدس ہیں ، دونوں جگہ اہل اﷲ موجود رہتے ہیں ا یک سے بڑھ کر ایک صاحب نسبت! لیکن ان کا عرفان واِ دراک مشکل ہوتا ہے، مکہ مکرمہ میں بھی اﷲ کے خاص بندے بہت ہوتے ہیں ، مگر انھیں پہچاننا اور ان سے ملاقات ایک مشکل چیز ہے ، مجھے بارہا خیال ہوا کہ یہاں جلالِ الٰہی کا آفتاب چمک رہا ہے اس لئے انسانی ستارے روپوش ہوتے ہیں ، مجھے ابتدائے عمر سے خاصانِ خدا کی تلاش رہتی ہے، گوکہ دل کا اندھا ہوں ، لیکن اندھے کو بھی جب کسی چیز کی تلاش ہوتی ہے تو اسے اس کی قوت لامسہ ڈھونڈ نکالتی ہے، تو مجھے مکہ شریف میں ایسے بندوں کی جستجو رہتی ہے ، مگر بہت کم عرفان ہوپاتا ہے، اس وقت مجھے وہاں سب ہی ’’خاصانِ خدا ‘‘ محسوس ہونے لگتے ہیں ، ایک اپنا وجود گندا دکھائی دیتا ہے ، باقی سب پاکیزہ اور صاف ستھرے!
لیکن مدینہ منورہ میں اصحابِ نسبت اہل اﷲ سے ملاقات آسان ہوتی ہے ، وہ محسوس بھی ہوجاتے ہیں ، شاید یہاں جمالِ نبوت کی چاندنی میں ستاروں کی روشنی بھی نظر آتی رہتی ہے، اس سفر میں مجھے تلاش تھی کہ اﷲ کا کوئی خاص بندہ ملے، تاکہ اس کے سائے میں رحمت الٰہی اس چوبِ خشک کو طراوت پہونچائے، میں چاہتا ہوں کہ بطورِ تحدیث نعمت کے