کے وقت اس نے بہت مناسب جگہ پر گاڑی روکی ، مسافروں نے اطمینان سے دونوں نمازیں ادا کیں ، کھانے پینے کی ضروریات کا دونوں جگہ وافر انتظام تھا ۔
مغرب کی نماز کا وقت ہورہا تھا ، مدینہ شریف سامنے تھا ، عمارتیں دکھائی دے رہی تھیں ، بس کی گردش میں مسجد نبوی کے میناروں کا جلوہ بھی نظر آجاتا تھا۔یہاں پہونچ کر بے اختیار دل کھنچتا تھا کہ جلد تر مسجد نبوی کی آغوش میں ، نبی اکرم ا کے قدموں میں باریابی ہو ، مگر قوانین سفر کی پابندیوں نے وہیں پابہ زنجیر کررکھا تھا ، یہ مدینہ شریف کا دفتر استقبال ہے، یہاں حجاج کے کاغذات دکھائے جائیں گے ، ان کے لئے مدینہ طیبہ میں آٹھ روز کے لئے مکانات متعین کئے جائیں گے ، پھر ایک رہبر دیاجائے گا جو متعلقہ مکان تک پہونچائے گا، اس میں بہت دیر لگی ، صرف ایک ہی بس تو نہ تھی ، حجاج کرام کی بسوں کا تانتا لگا ہوا تھا ، اپنے اپنے نمبر پر سب فارغ ہورہے تھے ، ہم نے وہیں مغرب کی نماز ادا کی ، پھر عشاء کا وقت ہوگیا ، مدینہ شریف کے دامن میں یہ نماز بھی ادا کی ، لوگ اندیشہ ظاہر کررہے تھے کہ آدھی رات یہیں گزر سکتی ہے ، کیونکہ ہجوم بہت ہے ، گو کام کی رفتار قابل اطمینان ہے، لیکن ہر ایک کاغذ کو چیک کرنا ، اور ہر ایک کے لئے عمارتوں کا متعین کرنا خود دیر طلب مسئلہ ہے۔
لیکن اﷲ کی مہربانی دیکھئے ، جونہی عشاء کی نماز سے فارغ ہوئے ، ڈرائیور نے پکارا کہ چلئے ! خوشی خوشی سب لوگ بس پر سوار ہوئے ، اور ڈرائیور نے مدینہ شریف کا ایک طویل چکر لگاکر ’’عَوَالِیْ ‘‘ میں بس روک دی ، ایک اچھی سی عمارت تھی ، اس کی تیسری منزل پر ایک حجرہ ہم چھ آدمیوں کے لئے مل گیا، یہ جگہ مسجد نبوی سے قدرے فاصلہ پر ہے ، مگر جذب وشوق نے فاصلہ کا احساس ہونے ہی نہیں دیا ، بحمد اﷲ پانچوں وقت مسجد شریف میں حاضری ہوتی رہی ، رسول اﷲ ا کا اتنا ظاہری قرب پاکر دل کا عجب عالم تھا ، مواجہہ شریف پر ہر وقت سلام عرض کرنے والوں کا جم غفیر رہتا تھا ، میں ہمت کا کمزور ، بدن کا ضعیف دور ہی دور سے اس امید پر سلام عرض کرلیا کرتا کہ حق تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے جیسے بالکل قریب کھڑے ہونے والوں کا سلام نبی ا تک پہونچادیتے ہیں ، میں بظاہر تھوڑے فاصلہ پر کھڑا