غسل خانوں کا نظم اتنی فراوانی اور عمدگی کے ساتھ ہے کہ کسی کو تنگی اور شکایت نہ ہو ، سڑکیں کشادہ، صاف شفاف، لوگ پیدل بھی بکثرت آتے ہیں ، سواریوں کا بھی انتظام ہوتا ہے، ۸؍ کو دن بھر اور رات بھر یہ مجمع یہاں رہتا ہے، ۹؍ذی الحجہ کی صبح یہ انسانی سیلاب میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوتا ہے، یہ منظر قابل دید ہوتا ہے، ہزاروں حاجیوں کے قافلے یکے بعد دیگرے پیدل لبیک کا نعرہ لگاتے ہوئے بیک لباس ، بیک آواز قدم قدم عرفات کی طرف چلتے ہوئے ، ایسے محسوس ہوتے ہیں جیسے آسمان سے فرشتے اتر آئے ہوں ، پیدل والے اپنے راستے سے چلے جارہے ہیں ، سواری والے اپنے راستے سے جارہے ہیں ، اور زمین وآسمان اﷲ کی وحدانیت کے ترانوں ، کبریائی کے نعروں اور لبیک کے زمزموں سے گونجتے رہتے ہیں ، دوپہر کے پہلے یہ سیلاب میدانِ عرفات میں لہریں لینے لگتا ہے، ظہر سے لیکر مغرب تک یہاں رہنا ہے، نمازیں ہیں ، تلاوت ہے، لبیک کے نعرے ہیں ، دعائیں ہیں ، آہ وزاریاں ہیں ، مناجاتیں ہیں ، یہاں بھی حکومت کے انتظامات بے نظیر ہیں ، ہر حاجی کو دوپہر کا کھانا حکومت کی طرف سے پیش کیا جاتا ہے، ہرہر حاجی تک قلیل وقت میں کھانا پہونچادیا جاتا ہے، طہارت خانے یہاں بھی بافراط ہیں ، بہت سے اہل خیر گاڑیوں سے پانی، ٹھنڈا ، لبن اور حلیب تقسیم کرتے رہتے ہیں ۔
شام ہوتے ہوتے عرفات سے کوچ کی تیاریاں ہونے لگتی ہیں ، سورج غروب ہوا اور قافلے مزدلفہ کی طرف واپس ہونے لگتے ہیں ، مغرب کی نماز چونکہ یہاں نہیں پڑھنی ہے، اس لئے لوگ پیدل اور سواریوں پر نکل پڑتے ہیں ، اور رات گئے تک یہ پورا مجمع مزدلفہ میں جاکر آباد ہوجاتا ہے ، راستے کے انتظامات قابل تعریف ہیں ، ڈروئیور اگر راستے کی غلطی نہ کرے تو ٹھیک عشاء تک یا عشاء کے بعد تک باوجود شدیدترین ٹریفک کے مزدلفہ پہونچ جائے گا ، لیکن اگر راستہ بھول گیا تو ساری رات پہونچنا مشکل ہے۔
پیدل والے البتہ بے تکلف ڈیڑھ دو گھنٹے میں مزدلفہ جا اترتے ہیں ، وہاں صرف رات بھر کا قیام ہے، وقوف کا وقت صبح صادق سے طلوع آفتاب تک ہے ، انسانی ضروریات