تو انسان کا پیچھا کہیں نہیں چھوڑتی ہیں ، حکومت نے پیدل کے راستے میں اور مزدلفہ میں اس کا زبردست انتظام کررکھا ہے، کھانے پینے کی اشیاء کا بھی ، طہارت اور وضو کا بھی ، بس ؎
اﷲ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کا کام نہیں
پھر طلوعِ آفتاب کے کچھ پہلے سے یہ ہجوم منیٰ کی جانب منتقل ہونے لگتا ہے، آج تین کام ہیں ، جمرۂ عقبہ کی رمی ، قربانی اور مکہ جاکر طوافِ زیارت ، رمی تو آج ہی ضروری ہے، قربانی اور طوافِ زیارت میں ۱۲؍ کی شام تک گنجائش ہے ، کتنے ہمت والے تو آج ہی تینوں عمل پورا کرلیتے ہیں ، اس پورے مجمع کی یہ پنج روزہ نقل وحرکت آسان نہیں ، مگر کسی خلفشار اور بغیر کسی انتشار کے سب کچھ آسانی سے انجام پاجاتا ہے، یہ اﷲ کی مدد اور انتظام کی خوبی ہے۔
جمرات کی جگہ محدود ہے، وقت بھی محدود ہے، اور انسانوں کی تعداد جیسے لامحدودہو، یہاں حادثوں کے اندیشے رہتے ہیں ، اور ہرسال کچھ حادثے پیش بھی آجاتے ہیں ، پچھلے حج میں قدرے بڑا حادثہ رُونما ہوگیاتھا ، تو حکومت نے اسی وقت فیصلہ کرلیا تھا کہ اب اس انتظام میں مزید وسعت دینی ہے،ا خراجات میں زبردست اضافہ ہوگا ، مگر جو ہو، انتظام تو کرنا ہی ہے، اس سال اس جگہ میں اتنی وسعت کردی ہے کہ اب سماں ہی بدل گیا ہے ، پانچ منزلہ سڑک کا منصوبہ ہے، جہاں سے کنکری ماری جائے ، ابھی زمین کے اوپر ایک ہی منزل ہے، اور مزید ایک اچھا نظم یہ کیا ہے کہ مقامی اور آس پاس کے حجاج جو سڑکوں اور راستوں پر قیام کرلیتے تھے اور ان کی وجہ سے جمرات تک آنے جانے میں بہت دقت ہوتی تھی ، ا س مرتبہ ان کا انتظام الگ کردیا گیا ، سڑکیں بہت کشادہ ہیں ، جب وہ خالی ہوگئیں تو خود بخود کشادگی بڑھ گئی ، اتنا ہی انتظام اگر برقرار رہے ، تو بہت دنوں تک مزید توسیع کی ضرورت نہ ہوگی ، اور لوگ آرام سے بغیر کسی اندیشے کے رمی کا فریضہ انجام دے لیا کریں گے۔