تن متوجہ ہوکرآپ کی بات سنے گی ، زبان سمجھ میں نہ آئے گی ، تو اشارات سمجھنے کی کوشش کرے گی، اس پر بھی بات نہ بنے گی ، تو کسی واقف کار تک پہونچاکراپنا فرض ادا کرے گی۔
تجربہ ہے کہ ہجوم اور مجمعوں میں جہاں آدمیوں کی ضروریات پھیل جاتی ہیں ، وہیں اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں ، دیکھا گیا ہے کہ کھانے پینے اور چائے کی قیمتیں کئی کئی گنا بڑھ جاتی ہیں ، مگر وہاں حکومت کا انتظام قابل تعریف ہے۔ یہ خاکسار پہلی مرتبہ ۱۹۸۹ء میں وہاں حاضر ہواتھا، اور اب ۲۰۰۶ء کے بالکل اواخر کا حج تھا ، مگر دیکھا کہ کھانے پینے ،چائے ، ٹھنڈے کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے، جو قیمتیں اس وقت تھیں اب بھی وہی ہیں ، بہت مناسب اور ہلکی ! جبکہ ہمارے ملک میں دم بہ د م قیمتیں چڑھتی رہتی ہیں ۔ صرف منیٰ کے دوتین روز میں کچھ قیمتیں بڑھی ہوئی محسوس ہوئیں ، لیکن اتنی نہیں کہ اس پر گرانی کا اطلاق ہو ، گاڑیوں کے کرایہ کا بھی یہی حال ہے ، ہاں حج کے پانچ ایام میں ضرورت کے بہت بڑھ جانے کی وجہ سے کرائے کا نرخ کبھی کبھی بہت زیادہ ہوجاتا ہے ، مگر یہ بہت محدود مدت کے لئے ہوتا ہے ۔البتہ سعودی عرب کے بعض حصوں پر امریکہ کے تسلط کا یہ اثر محسوس ہواکہ عام اہل عرب کے اخلاق میں قدرے گراوٹ آگئی ، اور مال کی حرص کچھ بڑھ گئی ہے ، اﷲ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
حج کے پانچ دن جبکہ حاجیوں کا سارا مجمع اکٹھا ہوتا ہے ، اور تھوڑے تھوڑے وقفے میں سب کی اجتماعی نقل وحرکت ہوتی ہے اور مختصر مختصر قیام بھی ہوتا ہے ، یہ پانچ روز حاجیوں کے لئے زیادہ مشقت کے، اور اہل انتظام کے لئے خاصے دقت کے ہوتے ہیں ، مگر حکومت کا انتظام اور اس پر خدائی مدد کا مشاہدہ بھی خوب ہوتا ہے۔
۸؍ ذی الحجہ کو حاجیوں کا یہ پورا مجمع ہر طرف سے سمٹ کر منیٰ میں پہونچتا ہے، منیٰ میں پہلے کپڑے کے خیمے ہوا کرتے تھے ، جن میں آگ لگنے کا خطرہ ہوتا تھا ، ۱۹۹۷ء کے بعد حکومت نے فائر پروف کیمیاوی خیموں کا انتظام کردیا ہے، جو ایر کنڈیشنڈ ہیں ، اس سے امکانی حد تک حاجیوں کو سہولت ہوگئی ہے خیموں کے مختلف حلقے ہیں ، ان میں بیت الخلاء اور