نگاہوں کا ہالہ بنا رہتا ہے ، اور آدمی محبت الٰہی کی مستی میں عالم شہود سے بے خبر عالم غیب کی جانب متوجہ رہتا ہے۔اﷲ اکبر، اﷲ اکبر
حجاج کرام کی وسعت کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے حکومت کو بھی توفیق بخشی ہے کہ اس کے قائم کردہ انتظامات کو دیکھ کر عقلیں دنگ رہ جاتی ہیں ، صفائی ستھرائی کا وہ عالم ہے کہ مسجد حرام تو خیر مسجد حرام ہے، سڑکوں اوار راستوں میں بھی کوئی گندگی ، کوئی تکلیف دہ چیز ، کوئی کوڑا کرکٹ آپ دیکھ لیں ، ممکن نہیں ، ادھر کوئی چیز کسی کے ہاتھ سے گرتی ہے ،اُدھر اٹھانے والے اسے لپک لیتے ہیں ، مسجد حرام میں تو صفائی کا وہ نظم ہے کہ شایدہی اس کی نظیر کہیں مل سکے ، اور صفائی کرنے والے اتنے تیز دم ، تیز رَو اور سلیقہ مند ومہذب کہ نہ شور وغل ہوگا ، نہ کسی کو تکلیف پہونچائیں گے ، خاموشی سے آئیں گے اور جتنے حلقے کی صفائی منظور ہوگی لال فیتے سے گھیرنا شروع کردیں گے، لوگ دیکھتے ہی جگہ خالی کردیتے ہیں ، کوئی بے خبر ہے یا سورہا ہے تو آہستہ سے اسے بتادیتے ہیں یا جگادیتے ہیں ، اور چند منٹوں میں ایک لمبا چوڑا حلقہ دھوکر ، پونچھ کر ،صاف کرکے آگے بڑھ جاتے ہیں ، بیٹھنے والوں کو شاید دوتین منٹ سے زیادہ انتظار کرنا نہیں پڑتا ۔ یہ عموماً دوسرے ملکوں کے ملازم ہوتے ہیں ، تھوڑی تنخواہ پر اپنی سعادت اور ذریعۂ نجات سمجھ کر نہایت مستعدی کے ساتھ یہ خدمت انجام دیتے ہیں ۔
اتنے بڑے ہجوم میں کچھ نازیبا حادثات کا ہوجانا بعید نہیں ہے ، حکومت نے ایسے حالات کے لئے پولیس کا انتظام کیا ہے، لیکن عجیب بات ہے ہمارے ذہنوں میں پولیس کے جس طرز عمل ، پولیس کی جس زبان اور اس کی بد اخلاقیوں اور لوٹ کھسوٹ کا جو تصور قائم ہے ، وہاں ایسا کچھ نہیں ، پولیس اپنے کام اور ڈیوٹی میں تو نہایت مستعد ہے، اس کے فریضہ کی ادائیگی میں مال کی کوئی مقدار رکاوٹ نہیں ڈال سکتی ، مگر ڈیوٹی کی یہ مضبوط اور فولادی پولیس زبان اور دل کی نہایت نرم ہوتی ہے، کہیں کوئی نہ دیکھے گا کہ حاجیوں کو پولیس ڈانٹ رہی ہو ، گالی دے رہی ہو، دھکے دے رہی ہو، بلکہ نہایت تہذیب وشائستگی سے بات کرے گی، اپنی ہمدردی پیش کرے گی، آپ مخاطب کریں تو ذرا بھی اعراض ورُوگردانی نہ کرے گی، بلکہ ہمہ