ہیں ، لیکن اﷲ کا انتظام ہے کہ حدودِ حرم سے پہلے ہی لباس کی حد تک سب کی شناخت ختم کرکے ایک لباس میں ملبوس کردیا جاتا ہے۔ اختلاف میں اتحاد کے اس سامان کے ساتھ جب لوگ ایک اﷲ کی وحدانیت کا نعرہ لگاتے ہوئے لبیک کی صدا کے ساتھ حرم کی بارگاہ میں داخل ہوتے ہیں ، تو اب کوئی اختلاف نہ رہا۔ ایک لباس میں ، ایک صدا کے ساتھ ایک پروردگار کی تجلی گاہِ خاص میں داخل ہوکر سب ایک ہی عمل میں مصروف ہوجاتے ہیں ، لوگوں کے وطن الگ الگ ہیں ، زبانیں جداجدا ہیں ، رنگ مختلف ہیں ، مگر جذبات وخیالات میں اتنی وحدت ہے کہ سوچا بھی نہیں جاسکتا ، ہر ایک کی زبان پر ایک ہی ترانہ ہے، آنکھوں میں سبھی کے یکساں آنسو ہیں ، رُخ سب کے ایک ہی طرف ہیں ، دل میں ایک ہی طرح کی موج اٹھ رہی ہے کہ الٰہی گناہوں کی معافی ہو، جہنم سے رہائی ہو ، جنت کی رہنمائی ہو، ، دنیا میں بھی بھلائی ہو، آخرت میں بھی بھلائی ہو، اس انسانی سیلاب کی دعاؤں کو اگر کشید کیاجائے تو یہی خلاصہ نکلے گا۔ سب اپنی اپنی زبان میں دعا کررہے ہیں ، مگر مضمون یہی ہے ، اپنے لئے ، اپنی اولاد کیلئے، اپنے آباء واجداد کے لئے ، پوری ملت اسلامیہ کے لئے !
بھلا ایسی حیرت انگیز وحدت کہیں اور دیکھنے میں آئے گی، پھر اس حیرت انگیز وحدت کا مظاہرہ ہرہر قدم پر آپ دیکھیں گے، بھیڑ کی وجہ سے دھکے لگنے سے چارہ نہیں ، لیکن کیا کوئی چیں بجبیں ہوتا ہے ، کوئی ٹیڑھی نگاہوں سے دیکھتا ہے، کوئی غصہ میں لال پیلا ہوتا ہے، کچھ نہیں ، خود دھکا کھانے والا معذرت کرتا ہے،شرماتا ہے، اگر کسی کو کچھ تکلیف کا احسا س ہوتا ہے ، تو بہت سے لوگ اس تکلیف پر مرہم رکھنے لگتے ہیں ۔
نہ لڑنا نہ جھگڑنا ، سب کو ایک دھن ہے کہ جس اﷲ نے یہاں تک پہونچایا ہے وہ راضی ہوجائے ، حاجتیں روا کردے، مردوں اور عورتوں کے اس سیلاب میں کیا آپ نے کبھی سنا کہ کوئی اغوا ہوگیا ہو، یہاں آکر دل پاکیزہ ہوجاتے ہیں ، نگاہیں پاکیزہ ہوجاتی ہیں ، ایک سے بڑھ کر ایک حسن نگاہوں کے سامنے گزرتا رہتا ہے، مگر کیا مجال کہ نگاہیں آلودہ ہوں ، اور دل میں ذوقِ گناہ جاگتاہو، ایک پاکیزگی سی پاکیزگی اور ایک تقدس سا تقدس