رسول اﷲ ا کی رسالت ایک روشن صداقت ہے ، ا س کی دلیل حاجیوں کا یہ بڑھتا ہواجم غفیر ہرسال ایک ناقابل تردید ثبوت پیش کرتا جارہا ہے۔
جہاں انسانوں کااتنا زبردست ہجوم ہر سال ہوتا ہو، اور صرف چند روز کے لئے نہیں بلکہ ماہ ذی قعدہ سے شروع ہوکر ماہ محرم کے نصف تک ڈھائی ماہ مسلسل رہتا ہو، اور پھر یہ کہ انسانوں کے اس سیلاب میں صرف ایک ملک سے نہیں بلکہ دنیا بھر کے تمام ممالک سے انسان امنڈتے ہوں ، مختلف رنگ کے ، مختلف نسل کے ، مختلف مزاج کے، الگ الگ قدوقامت اور جسامت کے ، بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والے ، مرد بھی عورتیں بھی، بچے بھی ، جوان بھی، بوڑھے بھی، بہت بوڑھے جو اپنے پاؤں سے ایک قدم نہ چل سکیں ، حسین اور گورے چٹے بھی ، بدصورت اور بدخوارہ بھی، غرض ساری دنیاکا رنگ وروغن اپنی امتیاز وشناخت کے ساتھ حرم محترم کی پاک سرزمین پر اتر آتا ہے، بہت بھیڑ ہوتی ہے ، کھوئے سے کھوا چھلتا ہے، ایک دوسرے سے جسموں کو دھکے بھی لگتے ہیں ، ہجوم کی وجہ سے چلتے ہوئے قدم رک رک بھی جاتے ہیں ، بسااوقات آدمی خود سے دوسروں کے زور سے چلنے پر مجبور ہوتا ہے، یہ وہ حالات ہیں ، جن میں لڑائی جھگڑے کے جتنے طوفان آجائیں ، بعید نہیں ، کتنے لوگ دب دب کر مرجائیں ،تعجب نہیں ، کتنے بچے اور عورتیں اغوا ہوجائیں ، کچھ دور نہیں ، کتنی گندگی پھیل جائے ، کتنے لوگ بھوکے رہ جائیں ، کتنوں کے سامان گم ہوجائیں اور پھر نہ ملیں ، کتنے کمزور اور بوڑھے پس جائیں ، کتنی تلخیاں ، کتنی دشمنیاں جاگ اٹھیں ، پھر پیدل چلنا اور چلتے رہنا ، بہت دور دور تک پیدل چلنا کہ اس ہجوم میں سواری کا گزر کہاں ؟پیدل چل چل کر لوگ تھک تھک کر نہ جانے کہاں کہاں گرجائیں ۔ ہجوم کی گردش میں بسا اوقات ایسے احوال بھی پیش آتے ہیں کہ دوسری کوئی جگہ ہو آدمی کان پکڑ کر بھاگ نکلے اور دوبارہ آنے کانام نہ لے۔
لیکن کیا یہاں بھی ایسا ہوتا ہے ؟ نہیں ! بالکل نہیں ! اگر کہیں کچھ ہوتا ہے تو اتنا کم کہ اسے ہونا کہنا، کسی طرح درست نہ ہو،دنیا بھر کے لوگ اپنے اپنے امتیازات کے ساتھ آتے