جمعہ کے حج کی وجہ سے اس سال خصوصی طور پر حجاج کرام کی تعداد بہت بڑھ گئی تھی، اﷲ کے دیوانوں کا وہ ہجوم تھا ،اور محبت الٰہی کی وہ جلوہ ریزی تھی کہ بس اﷲ یاد آتا تھا ، اور دین اسلام کی حقانیت روشن ہوتی تھی ۔ مکہ مکرمہ کی سرزمین اﷲ کے لئے ، اﷲ کے گھر آنے والوں کے ازدحام سے مالامال تھی مگر برکت ووسعت کا وہ عالم تھا کہ ھل من مزید کی صدائے حال اکثر محسوس ہوتی تھی ، روز وشب کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہ گزرتاتھا ، کہ مسجد حرام کی طرف قافلے کے قافلے رواں دواں نہ ہوں ، شمع حرم کے گرد پروانے ہمہ وقت چکر لگاتے ، پورے دن اور پوری رات پروانوں کی دیوانہ وار آمد ورفت اور گردش جاری رہتی ، مسجد حرام کا وسیع وعریض رقبہ ہر وقت لبریز رہتا ، لبیک کی پکار گونجتی رہتی، دعاؤں کی صدائیں بلند ہوتیں ، ذکر کا زمزمہ فضا میں رس گھولتا ، کوئی رورہا ہے ، کوئی ہاتھ باندھے حضور حق میں سرنگوں کھڑا ہے ، کوئی سربسجود ہے، کوئی زیر لب مصروفِ تلاوت ہے، غرض عبادت ہی عبادت ہے ، جو آرہا ہے وہ بھی عبادت میں ہے، جو جارہا ہے وہ بھی عبادت کے لئے پلٹنے کی نیت لے کر جارہا ہے۔
اﷲ اﷲ!کیا پُراثر وہ آواز تھی ، جو ابراہیم ں نے اﷲ کے حکم سے کائنات میں ہزاروں سال پہلے لگائی تھی ، جس کی گونج بحکم الٰہی عالم ارواح میں جا پہونچی ، اور اس پر آتے رہنے کا سلسلہ اب تک جاری ہے ، اور قیامت تک جاری رہے گا۔ان شاء اﷲ
آمدورفت کی سہولتوں نے آج مشرق ومغرب اور شمال وجنوب کی طنابیں کھینچ کر گھر آنگن بنادیاہے، دم کے دم میں آدمی ہزاروں میل طے کرکے اﷲ جانے کہاں کہاں پہونچتا ہے، پہلے سفر حج مہینوں نہیں برسوں کی خبر لیتا تھا ، اور اب یہ حال ہے کہ آدمی چاہے تو ہفتہ بھر میں حج مکمل کرکے گھر آجائے ، نزدیک کا آدمی نہیں ؟ دوردراز کا حاجی! پھر زمین نے اپنے خزانے بحکم الٰہی اگل دیئے ہیں ، مال کی وسعت گھر گھر پہونچی ہوئی ہے ، چھوٹے چھوٹے بچے بھی حج میں احرام کی حالت میں سفید گلاب کی طرح کھلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ سال بہ سال حجاج کرام کی تعداد بڑھ رہی ہے ، بلاشبہ اﷲ کا دین حق ہے ، اور سیّدنا محمد