نے تمام علامتوں کواس طرح مٹادیا ہے کہ کسی قبر کاپہچاننا ممکن نہیں ہے، وہاں ایک لطیفہ پیش آیا، ایک نوجوان نے جو زائرین کی نگرانی کررہاتھا سلام کیا ، مولانا غلام رسول صاحب نے جواب دیا،اور دونوں ہاتھ سے مصافحہ کیا ، نوجوان نے اعتراض کیا کہ سلام ایک ہاتھ سے کیاجاتا ہے، مولانا نے پیار بھرے لہجہ میں کہا کہ برخوردار سلام منہ سے کیا جاتا ہے، ہاتھ سے تو مصافحہ کیا جاتا ہے ، اس لطافت بیانی نے نوجوان کو خاموش کردیا۔
بے شک مدینہ کا ذرہ ذرہ عقیدت ومحبت کا آفتاب ومہتاب ہے۔ افطار کے وقت چھوٹے چھوٹے بچے ضیافت کیلئے سراپا تواضع بنے رہتے ہیں ۔ مولانا عبداﷲ صاحب …جن کا حال ہی میں انتقال ہوا ہے…کے صاحبزادے مولوی عبد الرحمن صاحب سے ایک صبح مسجد نبوی میں ملاقات ہوئی ۔ مہاجر بچوں کو حفظ کرانے پر مامور ہیں ۔ حضرت سے اپنے ابا حضور کی مہمان نوازی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موت سے قبل صرف اس بات کی فکر ان کو کھائے جارہی تھی کہ میرے لڑکے نے مہمان کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا، حالانکہ ان کو ہر طرح سے اطمینان دلایا گیا کہ بعد طعام وہ اپنے مستقر پر لوٹنا چاہتے تھے ، اس لئے کرایہ دے کر روانہ کردیا گیا، لیکن ان کے دل میں پھانس پڑ گئی، جس کا درد لئے وہ دنیا سے رخصت ہوئے ۔ پیارے رسول ا کی ایک ایک اداکا کیسا کیسا نمونہ اﷲ تعالیٰ پیدا فرماجاتے ہیں ، رشک آتا ہے۔
بڑی تمنا تھی ان بزرگ سے ملنے کی ، جن کا تذکرہ سابقہ حج کی روداد میں حضرت نے کیا تھا ۔ روانگی سے ایک دن قبل دوسری چھتری کے نیچے ان سے ملاقات ہوئی ، نحیف وناتواں ، معذور کرسی لگائے بیٹھے تھے ، جنت کی نعمتوں کی چاشنی ان کی زبان سے ٹپک رہی تھی ۔ مفتی عبد الرحمن صاحب ساتھ تھے ، بزرگ سے ان کی بے تکلفی تھی، وہ بھی بذلہ سنج تھے ۔ دھیمے لہجے میں فرمارہے تھے ’’ مری ہوئی مرغی کھاکر دعاء کروگے تو کیا قبول ہوگی‘‘ ہمارے مکہ ومدینہ کے دورانِ قیام نمازِ استسقاء پڑھی گئی تھی ، لیکن بارش نہیں ہوئی ، اسی پس منظر میں ان کا یہ تبصرہ تھا ۔ افسوس مغرب پرستی نے وادیٔ حرمین کو بھی حلال طعام سے محروم کرنے کی سازش