آگ بجھانے والے عملے نے نیچے جال لگادیا۔ خاتون نے اپنے ایک شیرخوار بچے کو جال پر پھینک دیا، اور خود سیڑھی سے اتر آئیں ۔
بعد ناشتہ قرأت ونعت کی محفل سجی، مئوآئمہ(الہ آباد) سے آئے ہوئے قاری رحمت اﷲ صاحب نے بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ مفتی عاشق الٰہی صاحب بھی موجود تھے، ان کی شخصیت میں بڑی جاذبیت تھی ، گفتگو بہت خوبصورت کرتے تھے ، دل موہ لینے والاانداز! پرہیزگاری تو کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی، محتاط اس قدر کہ جب سے وہاں مقیم ہیں ، ثلاجہ والا گوشت کبھی خرید کر نہیں کھایا ہے کہ مشکوک ہواکرتا ہے۔ ان سے بار بار ملاقات ہوئی ، حضرت سے انھیں دلی تعلق ہوگیا، دعوت دے کر گھر بھی بلایا۔
مولانا حفظ الرحمن صاحب حضرت کے پرانے شناسا ہیں ، WAMYسے وابستہ ہیں ، مسجد قبا کے قریب رہتے ہیں ، دوبار ان کے یہاں حضرت کے ساتھ کھانے میں شریک رہا۔
میرے قریبی لوگوں میں عزیزی انظاراحمد سلّمہ مدینہ طیبہ میں بسلسلہ ملازمت مقیم ہیں ، انھوں نے بڑی خدمت کی ، تقریباً روزانہ ہی کھانا لے کر آجایا کرتے تھے ۔ نتیجتاً ایک بار بھی کھانے کے لئے ہوٹل کا رخ نہیں کرنا پڑا۔ مسجد قبا تین بار جانے کی سعادت حاصل ہوئی ۔ ایک دن وہاں ایک خوش پوش بزرگ سے ملاقات ہوئی ، بہت خندہ پیشانی سے پیش آئے ، عطر لگایا، ان کی محبت پاشی کی خوشبو اب بھی محسوس ہورہی ہے۔
مقامات غزوات دیکھنے کا بڑا ارمان تھا ۔ حافظ مسعود صاحب اور عزیزی انظار کے ساتھ ان مقامات کی زیارت کا شرف حاصل ہوا۔ سیّد الشہداء اوردیگر شہدائے کرام کی اجتماعی قبریں بھی دیکھیں ۔ دل ودماغ کے پردے پر ایک ایک واقعہ ابھر نے لگا۔ ایمان جوش مارنے لگا، وہاں گذرے ہوئے لمحات جب بھی یاد آتے ، صحابۂ کرام کی عظمت کا احساس تازہ ہوجاتا ہے۔
جنت البقیع کی زیارت کے موقع پر حضرت کے ساتھ کئی علماء کرام بھی تھے ، قبروں میں آرام فرما اصحاب کرام اور اولیاء اﷲ کی تصویریں لوحِ دل پر ابھر آئیں ، حکومت