نظر اٹک کر رہ گئی ۔ نماز ادا کرکے روضۂ اقدس پر حاضر ہوا، سلام ودرود پیش کیا، شیخین مکرمین حضرت ابوبکر وعمر رضی اﷲ عنہما کی خدمت میں بھی تسلیم بجالایا۔ خیال آیا کہ ان دونوں کی بزرگی میں بھلا کسے شک ہوسکتا ہے، جو قرب انھیں حضور ا کی زندگی میں حاصل تھا ، آج بھی میسر ہے۔ اﷲ نے اسے دوام بخش دیا ہے، اب جو کوئی بھی ان کی شان میں گستاخی کرتا ہے وہ اپنی عاقبت خراب کرتا ہے۔
مسجد میں جدید طرز کی دو چھتریاں لگی ہوئی ہیں ، جو دن میں کھول دی جاتی ہیں ، اور سائبان کاکام کرتی ہیں ،پھر شام کو بند کردی جاتی ہیں ، ایک چھتری کے نیچے اس جگہ پہونچا جہاں سے گنبد خضراء صاف نظر آتا ہے، یہی وہ مقام ہے،جہاں ایک سفر میں حضرت بیٹھ کر قرآن کریم کی تلاوت کیاکرتے تھے ، اور اسی جگہ متعدد بار دوران تلاوت بیداری میں حضور اکرم ا کی زیارت سے مشرف ہوئے تھے۔
ایک دن فون پر حضرت کے چھوٹے داماد مولانا ابرار صاحب نے خواب میں آپ ا کے دیدار کا مژدہ سنایا کہ وہ حضرت کے ساتھ روضۂ اقدس میں داخل ہورہے ہیں ، اور پیارے نبی ا ا پنا دست مبارک حضرت کے شانے پر رکھے ہوئے ہیں ، اس خوش بختی پر آسمان بھی نازاں ہواہوگا۔ حضورا کے عشق نے نہ جانے کتنے ذروں کو آفتاب بنادیا۔
مدینہ کے قیام کے دوران حضرت کے چاہنے والوں کی کمی نہ تھی۔ حافظ مسعود صاحب، پاکستان کے رہنے والے، اور وہاں سے شائع ہونے والے رسالہ ’’حق چار یار‘‘ کے مدیر!رنگ یار بکھیرتے رہے۔ بارہا ان کی قیام گاہ پر طعام کا شرف حاصل ہوا، اور ان کی گاڑی سے اِدھراُدھرجانے کا! ایک صبح ناشتہ کی دعوت پر حافظ مسعود صاحب کے ساتھ ہم لوگ قاری رمضان صاحب کی وسیع وعریض رہائش گاہ پر پہونچے۔ موصوف کثیر الاولادہیں ، اور ایک ہی اہلیہ سے تقریباً دودرجن بچے ہیں ، اورسب کے سب حافظ وقاری! اﷲ کی شان نرالی ہے، ان کی اہلیہ بڑی باہمت خاتون ہیں ، ان کی جرأت کاایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ پہلے یہ خاندان ایک عمارت کی ساتویں منزل پر رہتاتھا، ایک بار اس منزل میں آگ لگ گئی ،