ہوئی، انھوں نے رقم بھیجنے کا وعدہ کیا ، نہ معلوم کیا بات ہوئی کہ غیر معمولی تاخیر ہوگئی ، رابطہ بھی ٹوٹ گیا ، حضرت کو قلق ہوا کہ کیوں کسی پر تکیہ کیا ۔ بعد حج عمرہ کی سعی کے درمیان حضرت پر رقت طاری ہوگئی ، ندامت آنسو بن کر ٹپکنے لگی، سعی مکمل ہوتے ہی اﷲ کی جانب سے استجابت کا پروانہ آگیا ، فون آیا کہ رقم بھیج دی ہے ، فلاں شخص سے وصول کرلیں ، دعاء کی قبولیت کی کیسی پھڑکتی یہ مثال ہے۔
قیام مکہ کے ایام تمام ہورہے تھے ، مکہ چھوٹنے کا غم اور مدینہ پہونچنے کی خوشی قریب آرہی تھی ، آخر کار مدینہ روانگی کے دن اور وقت کااعلان ہوگیا ، سامانِ سفر سمیٹ کر ہم لوگ بس میں سوار ہوگئے ، اﷲ کی یاد اور رسول ا کی محبت سجا کے مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے ۔
٭٭٭٭٭
بس مدینہ جانے والی چکنی سڑک پر پھسلتی چلی جارہی تھی، دونوں طرف سنگلاخ زمین پر نظر گئی۔ آنحضرت ا کے سفر ہجرت کا خیال آگیا ، ایک ایک منظر آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ اونٹ کی سواری ، موسم کی سختی ، تپتی ہوئی وادی، طویل دوری اور دشمن کا خطرہ… کس قدر دشوار گزار سفر رہا ہوگا، تصور محال ہے ، اور آج ہم ان کے گنہ گار امتی ایرکنڈیشنڈ بس میں کتنے آرام سے مسافت طے کررہے ہیں ، یہ سوچ کر دل بھر آیا، آنکھیں ڈبڈباگئیں ۔ زبان پر درود وسلام جاری ہوگیا، گو دوری سمٹ رہی تھی ، مگر بے تابی بڑھ رہی تھی ۔آخرش مسجد نبوی کی جھلک نظر آئی۔
مدینہ میں ہوٹل کے جس کمرہ میں جگہ ملی ، وہ مسجدنبوی سے متصل تھا ، کھڑکی کھولتے ہی ٹھیک سامنے گنبد خضراء پر نظر پڑی۔ محسن اعظم ا کاپیکر آنکھوں میں سماگیا، دل بے قرار ہوگیا ، پر گناہ گاری کے خیال نے شرمسار کردیا کہ کیا منہ لے کر حاضر ہوگے ؟ ڈھارس تھی کہ حضرت ساتھ ہیں ، ڈرتے ڈرتے حضرت کے پیچھے پیچھے مسجد نبوی میں داخل ہوا۔ اس کی شان وشوکت دیکھ کر مبہوت رہ گیا، ہر قدم پر حسن بکھرا ہواتھا ، ترکوں کا تعمیر کردہ حصہ خوبصورت نقش ونگار سے مرصع تھا ، اور نبی پاک ا سے ان کے والہانہ تعلق کا پتہ دے رہا تھا ،