تصورمیں ،میں آپ کی صورت مقدسہ کے سامنے آجاتا ،اور جھوم جھوم کر قرآن سنانا شروع کردیتا، اس تلاوت میں جو حلاوت حاصل ہوئی اور جو کیف ملا۔یاد نہیں کہ کبھی وہ حلاوت حاصل ہوئی ہو اور کبھی وہ کیف ملاہو۔
مدینہ طیبہ میں نو دن قیام رہا، برابر مورد عنایات رہا، نہ کبھی طبیعت بے کیف ہوئی ، اور نہ کبھی تکان محسوس ہوئی، مہربانیاں ہی مہربانیاں ،عنایتیں ہی عنایتیں !
ایک دن فجر کی نماز سے قبل مسجد نبوی میں حاضری ہوئی، تو کیادیکھتا ہوں کہ ، بمبئی کے حاجی رضوان صاحب ،اور سیوان کے حضرت قاری امیر حسن صاحب موجود ہیں ، قاری صاحب مدظلہٗ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب علیہ الرحمۃ کے خلیفہ اور حضرت مولانا ابرار الحق صاحب مدظلہٗ کے مدرسہ میں مدرس ہیں ، نہایت نیک اور بزرگ شخص ہیں ،ان کی نیکی اور ان کی بزرگی ان کے چہرے سے پھوٹی پڑتی ہے،چہرہ اتنا نورانی ہے کہ ہر شخص ان کے نور قلب کی گواہی دے۔
فجر کی نماز سے فارغ ہو کر ان حضرات کی خدمت میں بیٹھا تھا ،کہ ایک ہلکے پھلکے بدن کے، متوسط قامت بزرگ ہاتھ میں عصا لئے اور بغل میں ایک فولڈر کرسی دبائے ادھر سے گزرے، انھوں نے حاجی رضوان کے کندھے پر عصا رکھ کر دبایا،اور چہرے پر ایک نورانی اور دلنواز مسکراہٹ پھیل گئی، حاجی رضوان نے سر گھماکر ادھر دیکھا تو بے ساختہ کھڑے ہوگئے،پھر قاری صاحب بھی کھڑے ہوگئے۔میں نے بھی ان دونوں بزرگوں کی پیروی کی،مصافحہ ہوا، غالباً معانقہ بھی ہوا۔ انھوں نے کھڑے کھڑے بے تکلف باتیں شروع کردیں ، لہجہ بہار والوں کا تھا، آنکھوں میں خاص طرح کی چمک تھی،گفتگو میں قدرے روانی تھی، کچھ دیر کے بعد میں نے پوچھا کہ حضرت !کہاں کے رہنے والے ہیں ؟فرمایا یہیں کے،اس جگہ کے بعد کسی اور جگہ کی طرف نسبت نہیں ہوسکتی،بس یہیں کاہوں ، جب عمر یہیں گزری تو کہیں کا نہیں ہوں ، یہیں کا ہوں ،وہ جلد ی جلدی بولتے رہے مگر یہ بتا کر نہیں دیا کہ کہاں کے ہیں ، کھڑے کھڑے تھک گئے تو اپنی فرشی کرسی بچھالی، اور معذرت کی ،میں اپنی