تکلیف کی وجہ سے اسی پر بیٹھوں گا، پھر ہم لوگ بھی بیٹھ گئے، وہ باتیں کرتے رہے،اپنے مکشوفات بے تکلف بتاتے رہے ،پہلے انھوں نے حضور اکرم ا کی حیات پر گفتگو کی ،کہ آپ قبر میں زندہ ہیں ، دو زانو بیٹھے رہتے ہیں ،میں نے ہمیشہ اسی طرح بیٹھے دیکھا ، پھر یہ بھی کہنے لگے کہ حضرت زائرین کی طرف رخ کرکے نہیں بیٹھتے، دوسری طرف چہرۂ انور کئے رہتے ہیں ، لوگ اپنی صورتیں بھی اور اپنے دل بھی بگاڑ بگاڑ کر خدمت میں آتے ہیں ، تو آپ ان کی طرف رخ ہی نہیں کرتے، سلام کا جواب بھی کسی کسی کو دیتے ہیں ، ہمارے ساتھیوں میں سے کسی نے پوچھا کہ حضرت !ملا عمر اور اسامہ بن لادن کے بارے میں کچھ بتائیے؟ فرما یا کہ دونوں زندہ ہیں ۔ یہ دونوں رسول اﷲ ا کی خدمت میں پیش کئے گئے تھے، آپ نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا تھا،یہ دونوں بے قصور ہیں ۔ اﷲ تعالیٰ نے دونوں کی حفاظت فرمائی۔ طالبان پھر ظاہر ہوں گے۔إن شاء اﷲ،پھر کچھ دیر تک طالبان کا تذکرہ کرتے رہے۔ یہ سب وہ اس طرح بیان کررہے تھے، جیسے ان کا مشاہدہ ہو، میرے دل میں خیال آیا کہ اﷲ جانے اس شخص کا کیا حال ہو؟ یونہی گپ ہانک رہا ہے یا اس کے کلام میں کچھ سچائی بھی ہے، میرے ذہن میں اس خیال کا آنا تھا کہ ان کا موضوعِ سخن بدل گیا،فرمانے لگے : مومن کہیں جھوٹ بولتا ہے، ایمان اور جھوٹ میں تضاد ہے، جھوٹ نفاق کی بنیاد ہے،پھر بڑی دیر تک جھوٹ کی قباحت و شناعت پر تقریر کرتے رہے، میں اپنے دل میں شرمندہ ہوا کہ ناحق میرا دل بدگمانی میں مبتلا ہوا، بہت دیر تک تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک وہ باتیں کرتے رہے، ان کی باتوں میں بڑی حلاوت تھی اور بڑا اثر تھا۔
ان کے جانے کے بعد میں نے حاجی رضوان اور قاری امیر حسن صاحب سے ان کے متعلق پوچھا ، تو دونوں حضرات نے لاعلمی ظاہر کی ، حاجی صاحب نے اتنا بتایا کہ بس یونہی کبھی کبھی ملاقات ہو جاتی ہے، لیکن وہ دیر تک باتیں نہیں کرتے، علیک سلیک کے بعد رخصت ہوجاتے ہیں ، لیکن آج تو انھوں نے بڑی تفصیل سے باتیں کی، مفتی عبدالرحمن صاحب جدہ سے آئے ،تو میں نے ان سے تذکرہ کیا، ہم دونوں اس دن اور اس کے بعد بھی