میرا تعارف پہلے سے کرارکھاتھا۔یہ قاری محمدرمضان صاحب تھے،مدرسہ شرعیہ میں مدرس ہیں ،پاکستان کے رہنے والے ، بہت خوش اخلاق، سبک روح اور باغ وبہار بزرگ ہیں ۔جب ذرا بے تکلفی ہوئی تو شام کی دعوت انھوں نے پیش کی ، میں نے عرض کیا کہ اہل مدینہ کی دعوت رد نہیں کی جاسکتی، اور اپنے جی میں کہا کہ یہ تو سرکار کی دعوت ہے، پھر تو دعوتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ آخر دن تک دعوتیں ہی دعوتیں تھیں ۔ حافظ صاحب اپنی گاڑی سے لے جاتے، پورے قافلے کو لیجاتے ،کھلا پلا کر واپس پہونچادیتے۔
قبا میں حضرت مولانا عبداﷲ صاحب کے یہاں حاضری دی، حضرت مولانا کا تذکرہ میں ’’بطوافِ کعبہ رفتم۔۔۔۔۔‘‘ میں کرچکا ہوں ،بہت محبت فرماتے ہیں ۔ دیر تک ان کی خدمت میں حاضری رہی، ابراہیم پور کے مولانا حفظ الرحمن صاحب سے ملاقات ہوئی،داؤد پور کے ڈاکٹر شمیم صاحب کے یہاں حاضری دی،ڈاکٹر صاحب اور ان کی اہلیہ نے تو کمال ہی کیا، حکم دیا کہ استعمالی کپڑے اتار کر رکھ دیجئے، ہم اپنے گھر لے جا کر دھو کر پریس کر کے واپس کریں گے۔ بڑی شرم آئی،مگر میزبانی رسول(ﷺ)کی تھی،ان کے سامنے ایک عذر نہ چلا،وہ ہر روز آتے کپڑوں کا مطالبہ کرتے، حرمین شریفین میں کپڑے بہت کم میلے ہوتے ہیں ،نہ ان میں بو آتی نہ گندے ہوتے ،اس لئے بدلنے کی نوبت کم ہی آتی، پھر بھی وہ آٹھ دن میں دو مرتبہ تقاضا کرکے کپڑے لے گئے،اور صاف ستھرا دھو کر پہونچا گئے۔ ان کی اہلیہ کئی مرتبہ قیام گاہ پر آئیں ،اور جب آئیں تو پورے قافلہ کا کھانا پکا کر لے آئیں ، میرے سامنے تو ہر وقت رسول اکرم ا کی صورت جمال جلوہ گر رہتی کہ یہ سب حضرت کی عنایات ہیں ۔ میرا ریشہ ریشہ محبت نبوی میں بھیگا تھا۔ میں مسجد نبوی میں حاضر ہوتا تو ایسی جگہ بیٹھتا کہ گنبد خضراء نگاہوں کے سامنے ہو،اور جب اس سبز گنبد پر نگاہ پڑتی ،دل امنڈنے لگتا ، آنکھیں برسنے لگتیں ،اور صاف محسوس ہوتا کہ میں حضور (ﷺ) کی مجلس مبارک میں حاضر ہوں ،درود پڑھتا ،تو اپنے کو آپ کے بہت قریب محسوس کرتا،پھرمیں نے سوچا کہ آپ کو قرآن سناؤں ،پھر اس خیال اور حال کا ایسا غلبہ ہوا کہ جب قرآن کی تلاوت شروع کرتاتو