مآب(ﷺ) میں صلوٰۃ وسلام کے بعد عرض گزار ہوا کہ حضور والا! اس شہرِ مبارک میں آپ کا یہ امتی ! گناہگار وخطاکار امتی! حاضر ہے، اور آپ کی نگاہ کرم کا منتظر ہے۔ دور سے آیا ہے، حضرت والا کا مہمان بننا چاہتا ہے۔
اسی دن عشاء کی نماز پڑھ کر اپنی قیام گاہ کی طرف جارہاتھا---قیام گاہ یہاں بھی مسجد نبوی سے اتنی ہی دور تھی، جتنی مکہ مکرمہ میں حرم شریف سے دور تھی---درمیان میں ایک پی۔سی۔او سے اپنے پرانے مخدوم دوست مولانا حافظ محمد مسعود صاحب کو فون کرنے لگا، ادھر سے آواز آئی ،آپ کہاں ہیں ؟ میں نے کہا کہ مدینہ میں ہوں ۔ہاں !لیکن کس جگہ؟ میں نہیں جانتا،صرف اتنا جانتا ہوں کہ مدینہ پاک کی سرزمین پر ہوں ؟کچھ پتہ بتائیے ،تو میں آجاؤں ؟ مجھے کچھ پتہ نہیں ہے،صبح کو فجر کی نماز کے بعد مسجد نبوی میں باب الملک فہد پر آجایئے ،وہیں ملاقات ہوجائے گی، نہیں میں ابھی آنا چاہتا ہوں ،آپ کچھ اتہ پتہ بتائیے،پی۔ سی۔ او والے سے پوچھئے؟ میں اس کی زبان نہیں سمجھتا، وہ میری زبان نہیں سمجھتا،البتہ یہاں ایک سرنگ ہے،سڑک پر طریق ابی بکر اور طریق عثمان بن عفان کا بورڈ لگا ہے، اچھا وہاں دیکھئے ، کہیں مُجمَّع داؤدیہکی عمارت تو نہیں ہے،جی میں اسی کے پاس ہوں ! پھر وہیں رہئے،میں پانچ منٹ میں آتا ہوں ،اور واقعی وہ پانچ منٹ میں گاڑی لے کر آگئے، بڑی محبت سے ملے،گلے لگایا۔ رسول ا کی میزبانی شروع ہوگئی،پیدل چلنا موقوف ! حافظ صاحب گاڑی لے کر موجود رہتے، جہاں جانا ہوتا۔وہ نائب رسول بن کر مہمان رسول کی خدمت کیلئے ہمہ تن تیار رہتے،عورتوں کیلئے آسانی ہوگئی،حافظ صاحب اپنی گاڑی سے حرم نبوی میں پہونچادیتے، پھر واپس لے آتے۔
مجھے قیام گاہ تک پہونچایا۔ دوسرے دن فجر کے بعد تشریف لائے، وہ ایک مسجد میں جو احد پہاڑ کے دامن میں ’’مسجد رحمت‘‘ کے نام سے موسوم ہے،امام ہیں ۔ اور مسجد ہی کے مکان میں اہل وعیال کے ساتھ مقیم ہیں ، وہ مجھے اپنے گھر لے گئے، ابھی ہم وہاں بیٹھے ہی تھے کہ ایک بزرگ تشریف لائے، ملاقات ہوئی، تعارف ہوا،حافظ صاحب نے ان سے