مبارکپوریؒ کے صاحبزادے ہیں ،مکہ مکرمہ میں مقیم ہیں ،اور مطب کرتے ہیں ،مولانا محمد عارف جمیل صاحب مبارکپوری ، جو میرے استاذ حضرت مولانا جمیل احمد صاحب کے صاحبزادے ہیں اور بڑے قابل قدرعالم ہیں ۔عزیزم مولوی افتخار احمد صاحب اور عزیزم مولوی انصار احمد صاحب مبارکپوری ، یہ دونوں بھائی ہیں ، یہ تینوں صاحبان ریاض کی کسی یونیور سٹی میں پڑھتے ہیں ، حج کیلئے آئے تھے، ان حضرات کی وجہ سے بہت آسانیاں ہوئیں ۔
مکہ مکرمہ کے قیام کے آخری دنوں میں میرے بہت ہی عزیز دوست، کلکتہ کے نامور عالم مولانا شرافت ابرار صاحب ملے،وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ حج میں آئے تھے، طالب علمی کے زمانے میں انہوں نے ہمارے گھر کی بہت خدمت کی تھی،اور اب تک ان کی خدمتیں مختلف عنوانوں سے جاری رہتی ہیں ،ان کی اہلیہ بھی میرے بہت ہی عزیز دوست مولانا ابوذر اور مولانا ابو الخیر کی بہن ہے۔ پھر ان دونوں نے مل کر میری اور میری اہلیہ کی بہت خدمت کی،ان کی قیام گاہ حرم پاک سے متصل تھی، اس کی وجہ سے میری اہلیہ کو بہت آسانی ہوگئی۔
یکم ؍محرم ۱۴۲۴ھ کو مدینہ شریف کیلئے روانگی ہوئی، شام کو مغرب کے پہلے بس کا پہیہ گھوما، اور راستے میں رکتے رکاتے فجر کی نماز سے پہلے مدینہ طیبہ علیٰ صاحبھا صلوات اﷲ وسلامہٗ میں اذن حضوری ملا۔دربار نبوت میں لرزتے کانپتے حاضری دی، میں سوچتا رہا کہ اتنا خراب اور گندہ دل لے کرکیونکر اس پاک جناب میں باریابی کی سعادت حاصل کروں ،توبہ واستغفار کرتا ہوا ،اﷲ تعالیٰ سے ستاری کی دعائیں مانگتا ہوا حاضر خدمت ہوہی گیا، مواجہ شریف کے سامنے جانے کی ہمت نہیں ہوئی،ایک کھمبے کے قریب نیمے دروں نیمے بروں کی حالت بنائے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا،پھر ایسا محسوس ہوا کہ رحمت کی گھٹااٹھی، اور صحرائے جسم وجاں پر برس گئی، سخت گرمی اور گردو غبار کی کثافت کے بعد آدمی نہا کر جیسا سبک روح اور شگفتہ بدن ہوجاتا ہے، اسی جیسی کوئی لطیف کیفیت نمودار ہوئی، میں حضور رسالتِ