اس پر اس طرح دونوں میاں بیوی آرام سے بیٹھ گئے، جیسے یہ سامان انھیں کا ہو، میں آدھ گھنٹہ تک انتظار کرتا رہا،وہ عرب جوڑا آدھ گھنٹے کے بعد اٹھ کر چلا گیا،میں نے بیگ سے ایک کمبل نکالااور اوڑھ کر دوبارہ سو گیا۔ کچھ دیر کے بعد مجھے جگایا گیا، قافلہ آگیا تھا۔عورتیں وضو کرنے گئی تھیں ،وہ بھیڑ میں کھو گئی تھیں ، زبیر ڈھونڈ کر لائے،ایک ساتھی نہیں ملے، میں نے اٹھ کر وضو کیا عشاء کی نماز ادا کی۔اب قیام گاہ پر جانا تھا جو وہاں سے کم از کم ڈیڑھ کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔زبیر تو ماشاء اﷲ طاقتور بھی اور ہمتی بھی! انھوں نے بھاری بھاری دو بیگ اٹھا ئے،اور تیسرا جو نسبتاً ہلکا تھا میرے سپرد کیا،اور اٹیچی بہت ہلکی تھی وہ بھی میرے ہاتھ میں رہی۔ مجھے سامان اٹھانے کی کبھی عادت نہیں ! بیس پچیس قدم چل کر میں ہانپنے لگا، میں نے زبیر کو روکا ، سوچا کوئی مزدور مل جائے ، مگر وہاں کون ملتا،وہ بھی رات کے ساڑھے بارہ بجے،زبیر نے اٹیچی بھی مجھ سے لے لی،اب صر ف ا یک بیگ میرے ہاتھ میں رہ گیا۔ میں نے اٹھا کر اسے سر پر رکھا، تب آسانی ہوئی، اس طرح تقریباً ایک کلو میٹر ہم لوگ چلے ہوں گے کہ ایک مزدور مل گیا، اس نے پانچ ریال لے کر قیام گاہ تک پہنچا دیا ، حمالی کبھی کی نہیں تھی ،آج کی حمالی عجب لطف دے رہی تھی،اس مشقت میں ایک خاص طرح کی حلاوت محسوس ہورہی تھی،مجاہدہ تو سخت تھا،مگر اﷲتعالیٰ نے اسے پر لطف بنادیاتھا۔
اس کے بعد مکہ مکرمہ میں اٹھارہ روز رہنا ہوا ۔ نماز و طواف اور تلاوت وذکر کی مشغولیت رہی، میرے بہت ہی عزیز دوست مولانا مفتی عبد الرحمن صاحب غازی پوری جدہ سے آجاتے تھے، ان کے ساتھ رہ کر سکون قلب اور اطمینان جاں حاصل ہوتا تھا۔ ایک دن وہ مجھے اور مولانا مفتی ابو القاسم صاحب بنارسی کو جدہ لیکر گئے۔ایک جگہ ہلکی پھلکی تقریر کر نی تھی۔
ان مجاہدات کے دوران چند احباب کی وجہ سے بڑی راحت اور سہولت حاصل ہوتی رہی، مفتی عبد الرحمن ،مولوی حافظ عبدالجبار جو میرے پرانے دوست ہیں ،اور اس حج کے منتظم بھی وہی تھے، حکیم رشید احمد صاحب مبارکپوری ،جو حضرت مولانا محمد عمر صاحب