تھی،یہی سوچتے ہوئے ہم جمرات کی طرف بڑھ رہے تھے کہ ہمارے ملک کے مشہور شیخ الحدیث اور بزرگ ہستی حضرت مولانا محمد یونس صاحب مدظلہٗ شیخ الحدیث جامعہ مظاہر علوم سہارن پوردکھائی دئے،انھیں لوگ ’’وہیل چیر‘‘پر لارہے تھے،میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا،اور آسانی کی دعا کرائی۔پھر اﷲ تعالیٰ نے آسان کردیا ، بہت سہولت سے کنکری ماری،واپس لوٹے،تواب سیڑھیوں پر چڑھنے کا عمل تھا، طبیعت ہراساں تھی،عرصہ سے میرے گھٹنوں میں قدرے درد رہتا ہے۔پھر جسم بھاری، بلڈ پریشر ہائی،سیڑھیوں پر چڑھنا ایک دشوار عمل تھا،ہم دونوں کا یہی حال! اﷲ کا نام لے کر چڑھنا شروع کیا ،مغرب کی اذان ہو چکی تھی،کچھ اوپر چڑھے تھے کہ ایک درمیانی مسطح زمین پر جماعت ہورہی تھی، میں جماعت میں شامل ہوگیا،اور اہلیہ سے کہا کہ تھوڑی دیر بیٹھ کر آرام کرلو،تم اوپر پہونچ کر نماز پڑھنا۔نماز مغرب ادا کی ،اور پھر اوپر چڑھنا شروع کیا،حیرت کی انتہا نہ رہی اﷲ کے شکر میں رواں رواں بھیگ گیا،جب اچانک سیڑھیاں ختم ہوگئیں ،اور ہم لوگ پہاڑی کے اوپر کھڑے تھے،ایسا محسوس ہوا کہ سیڑھیاں آدھی سے بھی کم ہوگئیں ،اترنے میں جتنا وقت صرف ہوا تھا ، چڑھنے میں اس سے بہت کم وقت لگا۔اہلیہ حیرت میں تھیں کہ یہ کیا ہوا۔اتنی جلدی کیسے اوپر آگئے،یااﷲ آپ کا شکر ہے کہ آپ نے معاملہ کو سہل فرمادیا،
مکہ مکرمہ جانے کیلئے سواری لی گئی، جس نے ڈھائی گھنٹے میں حرم کے قریب باب الملک عبدالعزیز کے سامنے اتار ا۔ سامان لادے پھاندے ہم لوگ حرم کے باہر صحن میں پہونچ گئے،آج تمام حجاج یہاں اکٹھے تھے،بھیڑ بہت تھی،ایک جگہ سامان اتار کر نماز پڑھنے کا ارادہ کیا گیا ،مجھے تکان بہت تھی،نیند کا اثر بھی تھا، میں نے کہا کہ تھوڑی دیر یہاں لیٹ جاؤں تو نماز پڑھی جائے،لیٹنا تھا کہ میں نیند میں بے خبر ہوگیا ایک ڈیڑھ گھنٹے کے بعد آنکھ کھلی ،آنکھ کیا کھلی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے چل رہے تھے،انھیں جھونکوں نے جگا دیا،آنکھ ملتا ہوا، کپکپاتا ہوا اٹھا ،تو سامان موجود اور قافلہ غائب! میں بیٹھ گیا کہ وضو کیلئے لوگ گئے ہوں گے،ابھی آجائیں گے،ایک عرب جوڑا آیا ،اور ہمارے سامان کے ساتھ جو چٹائی بچھی تھی