تھا۔چند سکنڈ میں ہم دونوں جمرہ کے حوض کے پاس تھے،انھوں نے سکون کے لہجے میں کہا ہاں بیٹی! اطمینان سے کنکری مارو،پھر بہت اطمینان سے کنکری ماری گئی ۔وہ خوش ہورہے تھے،ہم سلام کرکے واپس ہوئے،اور بھیڑپھر جام ہوگئی،میں اب بھی حیران ہوں کہ اس بھیڑ میں وہ کون بزرگ تھے، جن کی ایک آواز نے بغیر کسی مزاحمت کے راستہ بھی دیا ،سنت کے مطابق رمی بھی کرائی، ضرور وہ کوئی مرد غیب تھے۔
رات میں طواف زیارت اور سعی کی سعادت حاصل کی ،اس میں اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت آسانی ہوئی، صبح فجر کی نماز حرم میں ادا کرکے،منیٰ واپسی ہوئی۔ آج آخری دن ہے کنکری مار نے کے بعد وہیں سے مکہ مکرمہ لوٹ جائیں گے،ہم پانچ آدمی تھے،پانچوں کے ضروری سامان ،جو حج کے پانچ ایام میں ،منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں درکار تھے تین بڑے بیگ میں تھے،ان میں ایک بیگ نسبتاً ہلکا تھا، میرے کاغذات کی ایک اٹیچی بھی ساتھ میں تھی،یہ سب سامان لیکر ہم لوگ ظہر کی نماز کے بعد پرائیویٹ سواری سے جمرات کیلئے چلے،پرائیویٹ سواریاں دور کا چکر کاٹ کر جمرات تک پہونچتی ہیں ،جس گاڑی پر ہم لوگ سوار تھے،دو گھنٹے میں اس نے جمرات تک ہم لوگوں کوپہونچایا،جہاں ہم اترے وہاں سے بہت تھوڑے فاصلے پر جمرات کا بورڈ لگاہوا تھا،بورڈ پر جمرات کی جانب اشارہ تھا۔میں بہت خوش ہوا کہ جمرات کے قریب ہم لوگ اترے ہیں ،ہم نے وہیں عصر کی نماز ادا کی،لیکن جب جمرات کی طرف چلے تو معلوم ہوا کہ ہم لوگ پہاڑی پر اترے ہیں ،جمرات کی سطح بہت نیچے ہے،حکومت نے آسانی کے لئے زینے بنوادئے ہیں ۔اور ہر دس بارہ زینے کے بعد دس بارہ فٹ مسطح زمین بنادی ہے،تاکہ چڑھنے اترنے کا تسلسل منقطع ہوتا رہے، میں اترتے وقت زینے گننے لگا۔ پونے تین سو زینے میں نے گنے،اس کے بعد زمین آئی،میں بھی ہائی بلڈ پریشر کا مریض ہوں اور اہلیہ بھی! ہم لوگ گھبرائے کہ کسی طرح اتر تو گئے ہیں ، چڑھیں گے کیسے؟
ہمارے تین ساتھی اوپر تھے،اس لئے اوپر جانے کے علاوہ کوئی صورت ممکن نہیں