ہے، اس طرح پانچ چھ کیلومیٹر ہجوم کے درمیان پیدل چل کر جمرات تک پہنچنا ہوا،عورتیں بھی ساتھ میں تھیں ، پہلے روز صرف ایک جمرہ کی رمی کرنی تھی، اﷲ نے مدد کی وہ بوڑھی مریض خاتون، جو گھر پر چند قدم نہیں چل سکتی تھیں ، وہ مریض خاتون جو کبھی ایک کیلومیٹر پیدل چلنے کا تصور نہیں کر سکتی تھی، دونوں بحمد اﷲ آہستہ روی سے سہی، مگر خیریت سے جمرات تک پہنچ گئیں ، اور باطمینان سنت کے مطابق کنکری مار کر واپس ہوئیں ۔
آج کے تجربے کے بعد طے کیا گیا کہ کل جمرات تک سواری سے جائیں گے، اور یہ بھی قرار پا یا کہ عورتوں کو رات میں لے جائیں گے اور کنکری مارنے کے بعد وہیں سے مکہ شریف جاکر رات میں طواف زیارت کریں گے،ہجوم قدرے کم ہوگا،تو آسانی ہوگی، میں سوچتا رہا کہ ضعفاء اور عورتوں کیلئے رات میں کنکری مارنا مناسب ہے،مگر دوسروں کیلئے یہ وقت مناسب نہیں ہے،تو ہم تین ساتھی دن میں ظہر کی نماز کے بعد پیدل جمرات پر پہونچ گئے،اور مسنو ن وقت پر بآسانی کنکری مار ی پھر مغرب تک قیام گاہ پر واپس آگئے،رات میں عشاء کی نماز ذرا تاخیر سے پڑھ کر آدھی رات کے قریب نکلے،ہمارے ایک ساتھی کے حسن تدبیر سے سرکاری بس جمرات تک کیلئے مل گئی،اس نے قریبی راستے سے مختصر وقت میں جمرات تک پہونچا دیا،خیال تھا کہ ہجوم کم ہوگا،مگر وہاں اتنا ہجوم تھا کہ دن میں بھی اتنا ہجوم نہ تھا۔میں تو سہم گیا کہ یہ ضعیف عورتیں کیونکر رمی کر سکیں گی،حاجی محمد زبیر تو قوی ہیں ،وہ اپنی والدہ کو لے کر چلے،میں اپنی اہلیہ کو لے کر چلا،پہلے دو جمروں پر زیادہ مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑامگر جمرۂ عقبہ پر یہ حال ہوا کہ باوجود کوششوں اور تدبیروں کے میں اہلیہ کو جمرہ کے قریب نہ پہنچا سکا ،ایک مرتبہ کچھ قریب پہونچے ہی تھے کہ ادھر سے ایک ریلا ہجوم کاآیا ،اور اس نے پیچھے ڈھکیل دیا،میں نے حجن سے پوچھا کہ اب تو دور ہوگئے ہیں ،کیا یہاں سے کنکری مار کر جمرہ کے حوض تک پہونچا دو گی،کہا ہاں ! میں نے کہا تو بسم اﷲ اﷲ اکبر پڑھ کر کنکری مارو،ابھی وہ ہاتھ اٹھا ہی رہی تھی کہ اسی ہجوم میں جمرہ کے قریب ایک بزرگ نے پکارا،بیٹی! اتنی دور سے کیوں کنکری مارتی ہو قریب آؤ،ان کا یہ کہنا تھا ،اور بھیڑ کاکائی کی طرح پھٹنا