رہے گی ،ہر قدم پر مثلث بنتا رہے گا ،یعنی ایک خطا معاف ہوگی،ایک نیکی بڑھے گی، ایک درجہ بلند ہوگا ۔جب یہ بشارت آئی…اورفوراً ہی آگئی تھی…تو ہر قدم پر لذت وحلاوت بڑھنے لگی۔ دوریٔ منزل کی وجہ سے بعض نمازیں قریبی مسجد میں ادا کرنے کی نوبت آتی تھی۔
انسان کا نفس جن امور کا عادی ہوتا ہے، اس کے خلاف صورت حال کا جب سامنا ہوتا ہے، تو معاملہ اس پر سخت بھاری پڑتا ہے، میں مدرسہ میں طلبہ کے درمیان اور عوام میں اپنے ماننے والوں کے درمیان رہ کر راحت وآرام کا خوگر ہو گیا ہوں ، دربارِ الٰہی میں گو کہ ازدحام بہت ہے، مگر سب اپنے حال میں مست اور اپنی کیفیت میں مگن ہیں دائیں بائیں جن لوگوں کو میں دیکھنے اور برتنے کا عادی تھا، انھیں نہ پاتا تھا، تو یہ ایک مستقل مجاہدہ تھا، مگر کس منہ سے اﷲ کا شکر ادا کروں کہ اس کریم ذات نے سب کچھ آسان کر دیا، نفس وطبیعت کا رشتہ پچھلی حالت سے ٹوٹ گیا، اور نئی صورتِ حال پر اطمینان ورضا کی کیفیت بغیر تاخیر کے پیدا ہو گئی، فالحمد ﷲ علیٰ ذلک۔
یہ مجاہدات جو میں نے ذکر کئے، یہ مسلسل اور علی الدوام تھے، ایک دو مجاہدے عین مناسک حج کی ادائیگی کے دوران پیش آئے تھے، انھیں بھی ملاحظہ کرو، اور اس کے ساتھ یہ بھی دیکھو کہ اﷲ تعالیٰ کی نصرت کس طرح دستگیری کرتی ہے۔
ہم لوگوں کے لئے ایک بڑا مجاہدہ جمرات تک پہنچنا تھا۔ ۱۴۱۷ھ کے حج میں منیٰ میں بڑی بھاری آگ لگی تھی ستّر ہزار خیمے جل کر خاک ہو گئے تھے، اس عظیم حادثہ کے بعد حکومت نے منیٰ میں ایسے خیموں کا انتظام کیا، جو آگ سے متاثر نہ ہوں ، اور ان میں ایرکنڈیشن مشینوں کو نصب کر دیا، تاکہ گرمی کی شدت میں حجاج آرام کے ساتھ رہ سکیں ، اس نئے نظم کے لئے جگہ زیادہ درکار تھی، تو حکومت نے منیٰ کے علاوہ مزدلفہ میں میں بھی بہت دور تک خیمے نصب کئے ہم لوگوں کو مزدلفہ میں جگہ ملی تھی، جب ہم جمرات پر جانے کے لئے پیدل نکلے تو ڈیڑھ دو کیلومیٹر مزدلفہ میں چلے، اس کے بعد منیٰ کی حد شروع ہوئی، منیٰ کی یہ حد مشرقی سرے پر ہے، اور جمرات بالکل مغربی حد پر ہیں ، یہ فاصلہ تقریباً تین چار کیلومیٹر کا