سوچ کر خوش ہوتا تھاکہ حضرت بھی حج میں تشریف لائیں گے ،زیارت وملاقات کا شرف حاصل ہوگا۔ مکہ مکرمہ پہونچنے کے بعد ہر وقت معلوم کیا کرتا تھا کہ حضرت کب تشریف لائیں گے،خبر ملتی کہ آج شام کو آجائیں گے ،کل صبح آجائیں گے۔لیکن یہ آج ،کل ہوجاتا،اور کل ،پرسوں بن جاتااور حضرت تشریف نہ لائے، ۷؍ذی الحجہ کو بے قرار ہو کر میں نے پاکستان فون کیا،تو حضرت ہی مل گئے،فرمایا ویزا نہ مل سکا،اس لئے سفر منسوخ ہوگیا۔میں فون ہی پر پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ادھر سے دعائیں ملیں ،محبت کی بشارتیں ملیں ،دل تھام کر حرم چلاگیا،صدموں سے چور تھا ۔مگر بحمداﷲ دل اﷲ کے اس فیصلے پر شکر گزار اور مسرور تھا،یہ فیصلہ جو میری طبیعت کے خلاف تھا ،اﷲ کی طرف سے تھا۔میرے پروردگار کا حکم نافذ ہوا،تو اس غم میں ایک لذت اور حلاوت ملی۔میں نے سوچا کہ سب ظاہری سہاروں سے الگ کرکے خالص اپنی بارگاہ میں بغیر کسی واسطے کے ناک رگڑتے دیکھنا چاہتے ہیں ،اچھا تو ہم بھی تیار ہیں ،جو آپ کو پسند وہی ہم کو بھی پسند!
أرید وصالہٗ ویرید ھجری
فاترک ما أرید لما یرید
(میں اس کی ملاقات چاہتا ہوں ،وہ میری جدائی چاہتا ہے تو ٹھیک ہے،میں اپنے ارادے کواس کے ارادے پر قربان کرتاہوں )
چوتھا مجاہدہ ملاحظہ کرو! مکۃ المکرمہ میں حاضری ہوئی، تو اپنی کاہلی ،کمزوری اور پیدل چلنے کی بالکل عادت نہ ہونے کی وجہ سے دل میں اﷲ کی ذات سے امید لگائے ہوئے تھا کہ حرم پاک کے قریب ہی کہیں رہائش ملے گی، مگر جو رہائش ملی وہ بہت دورتھی حرم شریف سے رہائش گاہ تک پہونچنے میں بیس منٹ صرف ہوتے تھے،عادت نہ ہونے کی بنا پر پاؤں سوج سوج گئے،عمرہ ادا کرنے میں خاصی دقت محسوس ہوئی،امیدوں کی عمارت منہدم ہو گئی ،ایک غیر متوقع صورت حال سے سابقہ پڑا ،تو طبیعت پژمردگی وافسردگی کی طرف بھاگنے لگی۔مگر اﷲ تعالیٰ کریم ہیں ،ان کے کرم نے سنبھالا،پھر اس تصور اور خیال نے شگفتہ اور تازہ کردیا کہ حرم کی طرف بڑھنے والے قدموں کی تعداد زیادہ ہوگی،تو رحمت الٰہی مسلسل متوجہ