میرا حال شاید تم کو معلوم ہو کہ میں کاہل اور راحت پسند ہوں ،کاہلی کے تقاضے اور راحت پسندی کی وجہ سے مال زیادہ خرچ کرتا ہوں ،اور سفر آرام سے کرتا ہوں ،اس سفر میں میری نیت یہ کہ ماں باپ کے ساتھ ایک بیٹا رہے گا ،تو وہ بہت آرام پہونچائے گا۔اسی لئے میں عادل کو ساتھ لے کر گیا تھا اور اپنی دعاؤں پر اور اﷲتعالیٰ کی ذات عالی پر یقین کئے بیٹھا تھا کہ اسباب نہ ہونے کے باوجود یہ بھی حج کر لے گا ۔ پہلا سبب مال تھا ، وہ بحمداﷲ حاصل ہوگیا ۔اب اور یقین ہو گیا کہ دوسری منزل بھی سر ہو جائے گی۔مگر دہلی پہونچ کر ہزار کوششوں کے باوجود اس کی منظوری نہ ہوسکی،یہ سخت مجاہدہ تھا،جب میں اس سے ہوائی اڈہ پر گلے مل کر جدا ہو رہا تھا،تو دل پر صدموں کا پہاڑ محسوس ہورہا تھا۔ مجھے اس وقت سخت اندیشہ تھا کہ اﷲ کی اس تقدیر پر میرا دل کہیں بے صبری اور شکایت میں نہ مبتلا ہوجائے ۔اس وقت مجھے قلب کی خاص نگہداشت کرنی پڑی ،اﷲ کا شکر کس زبان سے ادا کروں کہ اس کریم ذات نے رضا بالقضا کی توفیق بخشی،اور مزید کرم یہ کہ اس حادثہ نے دعاؤں کی کیفیت ومقدار میں خاصا اضافہ کردیا تھا۔ تمام حمدو ثنا اﷲکی ذات پاک کیلئے ہے کہ اس خلاف طبع حادثہ پر طبیعت بوجھل ضرور ہوئی،مگر الحمد ﷲ دل ودماغ اﷲ تعالیٰ کے فیصلے پرراضی اور مطمئن رہا۔
دوسرا مجاہدہ سنو! ایک ایسا شخص ،جو کاہل بھی ہو، آرام پسند بھی ہو،ہر وقت خدمت کا محتاج بھی ہووہ ایک طرف تو وہ اپنے خدمت گزار اور سلیقہ شعار بیٹے کی رفاقت سے محروم ہوا،اور دوسری طرف اس کے سپرد ضعفاء اور مریضوں کا ایک قافلہ ہوا۔ بظاہر اسباب ان سب کا مدار و انحصار اس شخص پر تھا جس کی کیفیت اوپر مذکور ہوئی،ہر قدم پر بے کسی اور بے بسی کا احساس ہوتا تھا۔مگر قربان جاؤں ا ﷲتعالیٰ کی مہربانیوں کے کہ ان کے کرم سے مناسک حج کے تمام مراحل آسان ہوگئے،دشواریاں آئیں ،بعض اوقات رقفاء میں کشمکش کی صورت بھی پیدا ہوئی، مگر بحمدﷲ شیطان حاوی نہ ہوسکا ،اس کا جادو جلد ہی اتر گیا۔
تیسرامجاہدہ سنو!تم جانتے ہو کہ میرے شیخ و مرشد پاکستا ن کے رہنے والے ہیں ۔برسوں ان سے ملاقات اور ان کی خدمت میں حاضری کا موقع نہیں ملتا، میں یہ سوچ