بعدمیں معلوم ہواکہ چھت اسی طرز کی بنائی گئی ہے۔ ہم لوگ شام کو یہاں پہونچے تھے ، پہلا کام یہ کیا کہ ٹکٹ لے کر سیٹ کنفرم کروائی ، معلوم ہواکہ جہاز دوسرے دن ساڑھے بارہ بجے ہے ، رات ایر پورٹ پر گزری، ایر پورٹ پر کوئی پُرسان حال نہیں تھا ، دیگر ہوائی کمپنیاں مسافروں کو فائیواسٹار ہوٹلوں میں ٹھہراتی ہیں ، ہم لوگ چونکہ حج کمیٹی سے آئے تھے ، اور ہندوستان کے دیگر سرکاری اداروں کی طرح اس کمیٹی کا بھی حال ہے ، کوئی خیریت پوچھنے کا بھی روادار نہیں تھا ، اپنے طور پر آپ کو جو کرنا ہے کریں ۔ دوسرے دن دوشنبہ کو صبح ۹؍ بجے ایرپورٹ کے اندر پہونچے ، ایک گھنٹے میں کسٹم وغیرہ سے فارغ ہوگئے ، بارہ بج کر پچیس منٹ پر ہمارا جہاز اُڑا، سعودی عرب ، عمان( مسقط) ایران اور پاکستان کی فضائی حدود سے گذرتا ہوا راجستھان کے راستہ ہندوستان میں داخل ہوا، اور سات بج کر پینتیس منٹ پر اندراگاندھی انٹر نیشنل ایر پورٹ پر اتر گیا۔ جب تک جہاز میں تھے ، اس وقت تک مغرب کا وقت نہیں ہواتھا ، چونکہ جہاز مشرق کی جانب جارہا تھا ، اس لئے اترتے اترتے بالکل اندھیرا ہوگیا ، جہاز سے اترنے کے بعد مغرب اور عشاء دونوں نماز پڑھ کر باہر نکلے ، باہر بہت ہجوم تھا ، میری نگاہ اپنے برادر مکرم فیض الحق صاحب پر پڑی ، بے اختیار آگے بڑھ کر ان سے گلے لگ گیا ، اور آنکھوں سے آنسو نکل پڑے ، ان کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کیں ، اﷲ تعالیٰ قبول فرمائے اور قبولیت کو ظاہر فرمائے۔ وہاں سے دفتر جمعیۃ علماء آئے ، دوسرے دن لیچوی اکسپریس سے گھر کے لئے روانہ ہوئے، مولانا کو لینے کے لئے شیخوپور سے مفتی منطور صاحب ومولانا سفیان صاحب وغیرہ بنارس آگئے تھے ، مولانا بنارس سے مدرسہ چلے گئے ، ہم لوگ مئو پہونچے، اسٹیشن پر ملنے والوں کا بہت ہجوم تھا ، سامان وغیرہ اتارنے کے بعد مولانا عزیزالرحمن صاحب نے دعا کرائی ، لوگوں سے مصافحہ ومعانقہ کے بعد بخیر وعافیت ۲۱؍ مئی بدھ کے دن گھر پہونچے۔ اس طرح ڈیڑھ ماہ کا یہ سفر اختتام کو پہونچا۔
دو تین روز گھر رک کر اتوار کو دیوبند روانہ ہوا، ٹھیک دوماہ کے بعد دیوبند پہونچا، ۱۹؍ ذی قعدہ کو دوماہ کی رخصت لے کر گھر آیا تھا ، اور ۱۹؍ محرم کو واپس پہونچا۔ چند روز کے