لے کر مسجد نبوی میں پہونچ جاتے ، اور جولوگ موجود ہوتے انھیں بڑی لجاجت اور اصرار کے ساتھ اپنے دسترخوان پر لے جاتے ، ان کا انداز بڑا بھلا اور پیارا ہوتاہے، خصوصاً ان کے معصوم بچے ، یہ تمام لوگوں کا ہاتھ پکڑ پکڑ کر دسترخوان پر لے جاتے ، ہم لوگ بھی ایک دسترخوان پر بیٹھے، قہوہ اور کھجور سے افطار کیا ، مسجدمیں کھانے کی کسی چیز کا لے جانا ممنوع ہے ، چنانچہ نماز کے بعد دیکھا کہ مسجد کے باہر لوگ بریانی کے دیگ لے کر کھڑے ہیں ، اور لوگوں کو کھلارہے ہیں ، دوسرے دن بھی یہی اہتمام دیکھا، اہل مدینہ کو قدرت کی طرف سے ضیافت ومہمان نوازی کا جذبۂ فراواں عطا ہواہے۔ شنبہ ۱۷؍ مئی کو ہمارے قیام کا نواں دن تھا ، معلوم ہوا کہ کل جدہ کے لئے روانگی ہے ، اور ۱۹؍ مئی دوشنبہ کو ہماری فلائٹ دہلی کیلئے ہے۔
یہ سن کر طبیعت پر افسردگی طاری ہوگئی ، کہ خیر وبرکت کے یہ ایام کل ہی تمام ہوجائیں گے ، پھر نہ جانے یہاں آناکب نصیب ہو؟ اس کے بعد مسجد نبوی کی حاضری اور زیادہ ہوگئی ، دوسرے دن صبح کو آخری سلام کے لئے حاضر ہوئے ، زبان سے دل نے جو کچھ کہنا سننا تھا کہاسنا، اور قیام گاہ پر آگئے ، تھوڑی ہی دیر میں بس بھی آگئی ، بس میں بیٹھ گئے ، اب شہر رسول نگاہوں سے اوجھل ہورہا تھا، اور دل پر جوکچھ گذرنی تھی گذر رہی تھی ، بقول محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمن الاعظمی ؎
میروم سوئے وطن وز دردِ دل بے اختیار نالۂ دارم کہ می گوئی بغربت می روم
میں وطن جارہا ہوں ، مگر دل سے بے اختیار ایسی چیخ نکل رہی ہے جیسے میں
(وطن سے) سفر میں جارہاہوں ۔
شام کو جدہ ایر پورٹ پر پہونچ گئے ، یہ کنگ عبد العزیز انٹر نیشنل ایر پورٹ جدہ کا حج ٹرمنل ہے ، جو سال کے صرف چار مہینہ استعمال میں رہتا ہے، اس قدر وسیع وعریض اور کشادہ ہے کہ ہمارے دہلی ایرپورٹ جیسے کئی ایرپورٹ اس میں سماجائیں گے، اس کی چھت شامیانوں جیسی ہے، اول وہلے میں یہی محسوس ہوا کہ ہم لوگ کسی خیمے میں پہونچ گئے ہیں ،