شریف پڑھارہے تھے، ہم لوگوں کوڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رُخصت کیا، اور اپنی بہت ساری کتابیں ہدیۃً پیش کیں ، اور بتایا ان کی کتاب التسھیل الضروری لمسائل القدوری بیروت میں چھپ گئی ہے۔ بارہ ایک بجے کے قریب ہم لوگ وہاں سے قیام گاہ پر واپس آئے۔
حج سے پہلے ہم لوگ حضرت مولانا زین العابدین صاحب معروفی مدظلہ (صدر شعبہ تخصص فی الحدیث ،جامعہ مظاہر علوم ،سہارن پور) سے ملاقات کے لئے سہارن پور حاضر ہوئے تھے ، مولانا نے کہا تھا کہ اگر علامہ طاہر پٹنی کی کتاب المغنی فی ضبط الاسماء لرواۃ الانباء اگرکہیں مل جائے تو اسے ضرور لے لینا، چنانچہ اسے مکہ مکرمہ میں بہت تلاش کیا ، مگر نہیں ملی، مدینہ منورہ کے بھی کئی کتب خانوں پر تلاش کیا ، مگر یہاں بھی اس کا سراغ نہیں مل رہا تھا ، آخر کار ایک صاحب نے ایک مکتبہ کے بارے بتایا، وہاں گیا تو صاحب مکتبہ نے بتایا کہ مجھے علم نہیں ہے کہ یہ کتاب ہے یا نہیں ، آپ خود تلاش کرسکتے ہوں تو کرلیجئے، کتابوں کے اس جنگل میں ایک کتاب کی تلاش آسان نہ تھی ، مگر اﷲ نے فضل فرمایا، تھوڑی ہی تلاش کے بعد اس کے تین نسخے مل گئے ، جسے میں نے خرید لیا، ایک حضرت مولانا زین العابدین صاحب کیلئے، ایک اپنے مولانا کے لئے، اور ایک اپنے لئے۔ بعد میں حضرت مولانا زین العابدین صاحب نے اسے اپنی تحقیق وتعلیق کے ساتھ شائع کیا۔ اس کے علاوہ شیخ عبد الفتاح ابوغدہ ؒ کی جو کتابیں دستیاب ہوسکیں خریدیں ، اسی طرح ایک دو کتابیں محمدعلی صابونی کی لیں ۔
ہم لوگ سعودی تقویم کے مطابق ۳؍ محرم مطابق ۹؍ مئی جمعہ کو مدینہ منورہ پہونچے تھے ، یہاں کے شب وروز نہایت خیر وخوبی کے ساتھ گزر رہے تھے ، دوسرے جمعہ کو قیام کا آٹھواں دن تھا ، اور اسی دن دسویں محرم عاشورہ کا دن تھا ، ہم لوگ روزہ سے تھے ، اور بھی بہت سے لوگ روزہ سے تھے ، سنا ہے کہ مدینہ منورہ میں نفلی روزہ رکھنے کا بہت اہتمام ہے، اور اس سے زیادہ اہتمام شام کو افطار کرانے کا دیکھا، وہاں کے باشندے اپنااپنا دسترخوان