صاحبزادے حافظ عبد اﷲ بن مسعود سے ملاقات ہوئی، جنھوں نے اسی سال حفظ قرآن کریم کی تکمیل کی ہے، اور قرآن عربوں کے لہجے میں بہت عمدہ پڑھتے ہیں ، حافظ صاحب نے گاڑی میں ان کی کیسٹ ہمیں سنائی تھی ۔انھوں نے بتایا کہ مسجد نبوی کے امام حذیفی صاحب کی رہائش بھی یہیں ہے ، دووقت وہ مسجد نبوی میں امامت کرتے ہیں ، بقیہ نماز میرے ہی پیچھے اسی مسجد میں پڑھتے ہیں ۔ حافظ صاحب کو معلوم ہواکہ مجھے قلفی بہت پسند ہے ، تو ایک روز کہنے لگے کہ چلئے میں آپ لوگوں کو ایک خاص جگہ کی قلفی کھلاؤں جو پورے مدینہ منورہ میں مشہور ہے ، پہلے یہ دکان بالکل حرم کے سامنے تھی ، جدید توسیع کے بعد اب حرم سے قدرے فاصلے پر ہے، ہم لوگ ان کے ساتھ گئے ، واقعتاً ویسی قلفی نہ اس سے پہلے کہیں کھائی تھی ، نہ اس کے بعد اب تک کہیں کھائی ہے۔حافظ صاحب کی وجہ سے بڑی سہولت رہی ، جہاں کہیں آنا جانا رہتا اپنی گاڑی لے کر موجود رہتے ۔ جزاک اﷲ خیر الجزاء
مدینہ کی برکات میں سے ایک چیز یہ بھی دیکھی کہ یہاں کے دورانِ قیام تقریبا روزانہ ہی کہیں نہ کہیں دعوت رہی ، ایک روز مولانا حفظ الرحمن صاحب نے دعوت کی ، اور مزید کرم یہ کیاکہ کھانا پکاکر قیام گاہ پر لائے ، اسی طرح حافظ مسعود صاحب نے کیا ، ایک روز عشاء کے بعد حضرت مولانا عاشق الٰہی صاحب بلند شہری مہاجر مدنی سے ملاقات ہوئی، مولانا موصوف برصغیر کے ممتازو معروف عالم ہیں ، (۲۸؍ نومبر ۲۰۰۱ء کو مولانا انتقال ہوا) مولانا سے اﷲ تعالیٰ نے دین کی بڑی خدمت لی ، ان کے چھوٹے بڑے سیکڑوں رسائل دینی موضوعات پر ہیں ، جن سے ایک امت فائدہ اٹھارہی ہے، ہمارے مولانا سے مولانا موصوف کی پرانی جان پہچان تھی، وہ مولانا کے ساتھ ہم لوگوں کو بھی اپنے گھرلے گئے ، اور خوب ضیافت کی ، اور فرمایا کہ روزانہ عشاء کے بعد یہیں ملاقات ہوگی ، اور رات کا کھانا میرے ساتھ کھانا ہوگا، چنانچہ اس کے بعد روزانہ مولانا اپنے ساتھ لواجاتے، وطن واپسی سے ایک دن پہلے عشاء کے بعد مولانا، میں اور حافظ مسعود صاحب ہم تینوں آپ کے ساتھ گھر گئے، رات دیر تک آپ کے یہاں رہے، دیکھا کہ ایک افریقی طالب علم کو آپ ابوداؤد