ایک روز مولانا نے زیارت کے لئے ایک گاڑی طے کی ، کہ اس سے تمام لوگ چلیں اور قابل ذکر مقامات کی زیارت کرلیں ، چنانچہ فجر کی نماز پڑھ کر مولانا کی سربراہی میں ہم لوگ روانہ ہوئے،پہلے غزوہ خندق کے موقع پر گئے ، وہاں مسجد استراحت ، مسجد فتح اوردوسری مسجدیں دیکھیں ، اس کے علاوہ مسجد قبلتین ، مسجد جمعہ ، مسجد شمس ، بیر عثمان ، بیر غرس ، باغ سلمان فارسی پر گئے ، ہر جگہ سے ہوتے ہوئے ظہر سے پہلے قیام گاہ پر آگئے ، ظہر کی نماز باجماعت مسجد نبوی میں ادا کی ، اس بات کا خاصااہتمام تھا کہ چالیس نمازیں باجماعت مسجد نبوی میں ادا ہوجائیں تاکہ اس حدیث کا مصداق ہم لوگ بھی ہوجائیں جس میں اس پر نفاق سے بری ہونے کی بشارت آئی ہے۔ الحمد ﷲ چالیس سے زائد نمازیں باجماعت مسجد نبوی میں ادا کرنے کی سعادت حاصل ہوئی، فللّٰہ الحمد والمنۃ
مولانا نے حافظ مسعود صاحب سے کہا ہم لوگ کھجوریں مدینہ شریف کے ہی باغات سے خریدنا چاہتے ہیں ، حافظ صاحب ہم لوگوں کو اپنی گاڑی سے ایک باغ میں لے گئے ، نہایت گھنااور گنجان باغ تھا ، اس میں کھجور کے ڈھیر سارے درخت تھے ، نہایت گھنے اور صرف قد آدم کے بقدر بلند، ہم لوگ بے تکلف اس کے پھل کو توڑسکتے تھے ، اس وقت ابھی پھل آرہے تھے ، باغ کے مالک نے نہایت خندہ پیشانی کے ساتھ ہم لوگوں کا استقبال کیا، اور کھجوروں سے ہم لوگوں کی ضیافت کی ،اس کے بعد ہم لوگوں نے گھر کے لئے کھجوریں لیں ، جواس نے کولڈ اسٹوریج سے نکال کردیں ، معلوم ہوا کہ جولائی میں کھجوریں پکتی ہیں ، اسی وقت توڑ کر اسٹور کرلی جاتی ہیں ، پھر سال بھر اسی میں سے نکال نکال کر فروخت ہوتی رہتی ہیں ۔ جس وقت اسٹور سے کھجوریں نکالی گئیں ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے یہ بھی برف کاایک ٹکڑا ہیں ۔
حافظ مسعود صاحب مدینہ منورہ میں ’’الرحمۃ ‘‘ نامی ایک مسجد کے امام ہیں ، یہ مسجد نبوی سے تقریباً ڈیڑھ دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، مسجد ہی سے ملحق مکان میں اپنے بچوں کے ساتھ مقیم ہیں ، حافظ صاحب ایک روز ہم لوگوں کو اپنے مکان پر لے گئے ،یہاں ان کے