محمد رسول اﷲ ا اور اس سے اور مشرق میں حضرت سیّدنا عثمان غنی ص کی قبر مبارک ہے، حضرت عثمان غنی ؓ کی تدفین باغیوں کے خوف کی وجہ سے نہایت کس مپرسی کے عالم میں ہوئی تھی ، اس لئے انھیں ایک طرف کنارے دفن کردیا گیا تھا ، اب تو یہ جگہ بیچ میں آگئی ہے ، بعد میں ایک صاحب نے قبرستان کاایک نقشہ دیا ، جس میں یہ صراحت تھی کہ کس کی قبر کہاں ہے، اس کے حساب سے جہاں تک ممکن ہوسکا وہاں وہاں پہونچ کر ان حضرات کے لئے ایصال ثواب اور دعا کی۔
دوسرے دن حافظ مسعود صاحب اپنی گاڑی لے کر آئے ، اور پہلے میدان احد لے گئے ، اور وہاں پہونچ کربتایا کہ کس طرح کہاں سے کفار حملہ آور ہوئے تھے ، انھوں نے بتایا یہ جبل رُماۃ ہے ، یہیں رسول اﷲ ا نے پچاس تیر اندازوں کو مقرر کیا تھا، اور انھیں کی ذرا سی لغزش سے جنگ کا نقشہ بدل گیا تھا ، اب تو جبل رُماۃ ایک چھوٹا سا ٹیلہ رہ گیا ہے، جوشاید بطورعلامت کے ابھی تک باقی رکھا گیا ہے۔ اس کے شمال میں احد پہاڑ ہے، حافظ صاحب ہم لوگوں کو پہاڑ پر ایک غار میں لے گئے اور بتایا کہ یہی وہ غار جہاں زخمی ہونے کے بعد رسول اﷲ ا کو لٹایاگیا تھا ، ابوسفیان اور حضرت عمر فاروق ص کے درمیان مکالمہ یہیں ہواتھا۔میدان کے وسط میں ایک بڑا سا احاطہ ہے ، جس میں شہداء احد اور سیّدنا حضرت حمزہ کی قبر مبارک ہے، احاطہ کے دروازہ کے پاس ایک لڑکا کھڑا ہواتھا، جو ایک قبر کی طرف اشارہ کرکے کہہ رہا تھا کہ ھٰذا قبر عم النبی ﷺ ، وہاں سے فاتحہ پڑھ کر قبا گئے ، یہیں وہ مسجدہے، جسے اسلام کی سب سے اولیں مسجدہونے کا شرف حاصل ہے، سعودی حکومت نے اسے نہایت عمدہ بنواد یا ہے، یہاں دو رکعت نماز ادا کی ، یہیں ہمارے قریبی موضع ابراہیم پور کے مولانا حفظ الرحمن صاحب رہتے ہیں ، ان کے یہاں حاضری ہوئی ، اور مشہور بزرگ مولانا عبد اﷲ صاحب بستوی جن کا ذکر مولانا کے سفر نامہ میں آچکا ہے،اس وقت ان کی رہائش قبا ہی میں ہے۔ ان کے دردولت پر بھی حاضری ہوئی ۔ دونوں حضرات نے حددرجہ اعزاز واکرام فرمایا۔