ہے( مابین منبری وروضتی روضۃ من ریاض الجنۃ) اس لئے یہاں پر بہت ہجوم ہوتا ہے، ہر ایک کی خواہش ہوتی ہے کہ یہاں دورکعت نماز پڑھ لے، ہم لوگوں کو بھی موقع ملا،اور دورکعت نماز ادا کی ۔ جیسے جیسے دن گزرتے رہے،حجاج کی بھیڑ کم ہوتی گئی ، قیام کے اخیر دنوں میں تو بآسانی جگہ مل جاتی تھی ، اس میں مختلف ستونوں کے پاس نماز پڑھنے کا اتفاق ہوا، جیسے ستونِ ابولبابہ، ستونِ سریر، ستونِ عائشہ، اس ستون کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ، ایک مرتبہ رسول اﷲ ا نے ارشاد فرمایا تھا کہ میری مسجد میں ایک جگہ ایسی بھی ہے کہ اگر لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی فضیلت معلوم ہوجائے تو لوگ اس کیلئے قرعہ اندازی کیا کریں ۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے اس جگہ کی نشاندہی کی، اسی مناسبت سے اسے ستونِ عائشہ کہتے ہیں ۔وہیں ایک قدرے بلند چبوترہ تھا ، معلوم ہواکہ یہی اسلام کی وہ اولیں درس گاہ ’’صفہ‘‘ ہے، جہاں علم حدیث کے بڑے بڑے ائمہ اٹھے، اور آج کے مدارس اور تعلیم گاہوں کی اصل یہی چبوترہ ہے، یہاں بہت سے لوگ مشغول تلاوت تھے ، میں نے بھی کچھ دیر وہاں بیٹھ کر اس کی سعادت حاصل کی ، اور اس فضل وانعام اور عطا وبخشش پر خدائے تعالیٰ کا حددرجہ شکر ادا کیا۔
شام کو مولانا نے کہا کہ حافظ مسعود صاحب کو فون کرو، ان کا ذکر آپ مولانا کے سفرنامے میں پڑھ چکے ہیں ، انھوں نے قیام گاہ کا پتہ پوچھا اور کہا میں عشاء کے بعد باب مجیدی کے پاس ملوں گا، مگر رات کو ان سے ملاقات نہ ہوسکی ، دوسرے دن وہ قیام گاہ پر تشریف لائے ، ان کے پاس اپنی گاڑی ہے، انھوں نے کہا کہ کل احد اور قبا وغیرہ چلیں گے ، اسی دن شام کو مولانا کے ہمراہ جنت البقیع گئے ، جنت البقیع مدینہ کا وہ قبرستان ہے جو ہزاروں صحابہ وتابعین اور اولیاء اﷲ کا مدفن ہے ،اب مسجد نبوی کے جنوب مشرق میں ہے،اورجدید توسیع کے بعد بالکل حدود مسجد سے مل گیا ہے، باب جبریل سے نکلنے کے بعد چند منٹ کے فاصلہ پر ہے، شام کو ہم لوگ پہونچے، معلوم ہوا صرف چند گھنٹوں کے لئے کھلتاہے، ایک جگہ مولانا نے بتایا کہ یہاں امہات المومنین کی قبریں ہیں ، اس کے مشرق میں سیّدنا ابراہیم بن