یہ سب باتیں ذہن وخیال کے پردے پر ابھرتی رہیں ، اور بس فراٹے بھرتی ہوئی راستہ طے کرتی رہی، رات بھر کے سفر کے بعدصبح کو مدینہ طیبہ حاضر ہوئے ، یہ جمعہ کادن تھا ، مکہ مکرمہ میں ہماری قیام گاہ حرم شریف سے بہت دور تھی ، اس کا صلہ یہ ملا کہ یہاں قیام گاہ مسجد نبوی سے بالکل متصل ملی ، مسجد سے نکلنے کے بعد پورب جانب دوتین منٹ کے فاصلہ پر قیام گاہ تھی ، اب سفر کا سب سے اہم مرحلہ روضۂ اقدس پر حاضری کا تھا ، میری حالت تو اس طالب علم جیسی تھی جو مدرسہ سے فرار ہوگیا ہواور بڑی مشقتوں اور دشواریوں کے بعد کسی طرح ہاتھ آیاہو، یہ مجرم اور مفرور طالب علم کس طرح اپنے استاذ کا سامنا کرے ، تنہا جانے کی تو کسی طرح ہمت ہی نہیں پڑی ، اب تک کی طرح یہاں بھی مولانا کے دامن عافیت میں پناہ لی ، کہ بغیر کسی سرپرست کے کیسے وہاں جاؤں ؟ بہر حال نہادھوکر صاف ستھرے کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور مولانا کی معیت وہمراہی میں چلا، ؎
مومن چلا ہے کعبہ کو اک پارسا کے ساتھ
جیسے ہی گنبد خضراء پر نظر پڑی، ایسا محسوس ہوا جیسے میں سن ہوکر رہ گیا ہوں ، اور میرا وجود ہوا میں تحلیل ہوگیا ہو، میرے پیر زمین کے بجائے کہیں اور پڑرہے ہوں ، بہر حال مولاناہم لوگوں کو لے کر روضۂ اقدس پر پہونچے ، مولانا سب سے آگے تھے ، اس کے بعد میں پھر بلا ل بھیا ، جیسے روضہ کے سامنے پہونچے مولانا تو بالکل بے حال تھے ، ان کی گھٹی گھٹی سسکیاں سنائی دے رہی تھیں ، کچھ یہی حال بلا ل بھیا کا تھا ، اپنی حالت کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ میں کس حال میں ہوں ، اگرمحسوسات من وعن الفاظ وعبارات کے پیکر میں ڈھل جائیں تو ان کیفیات کا صحیح علم ہوسکے گا، جو اس وقت مجھ پر طاری تھیں ، اس وقت اس قدر ہجوم تھا کہ ٹھہرنے کا بالکل موقع نہ تھا ، ہجوم کے ساتھ غیر اختیاری طور پر ہم آگے بڑھتے رہے اور باب جبرئیل سے باہر نکل آئے، وہاں سے قیام گاہ پر آگئے ، دیر تک طبیعت پر ایک اثر رہا۔ اس کے بعد جمعہ کے لئے نکلے۔ نماز کے بعد جب ہجوم کم ہوا تو ریاض الجنۃ میں پہونچے ، یہ جگہ حجرۂ رسول اور منبر رسول کے درمیان ہے، اس جگہ کی بڑی فضیلت حدیث میں وارد ہوئی