بات کی طاقت رکھتا ہے کہ مدینہ طیبہ میں مرے ، اس کو چاہئے کہ وہیں مرے ، اس لئے میں اس کی شفاعت کروں گا جو مدینہ میں مرے گا۔ نیز آپ کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری مسجد میں چالیس نمازیں اس طرح پڑھے کہ اس کی ایک نماز بھی اس مسجد سے فوت نہ ہو تو اس کے لئے آگ سے برأت لکھی جاتی ہے، اور وہ شخص نفاق سے بری ہے۔
آپ انے اس شہر کے لئے بطور خاص خیر وبرکت کی دعاء فرمائی ۔أللھم إن إبراھیم کان عبدک وخلیلک ودعا لأھل مکۃ بالبرکۃ وأنا عبدک ورسولک أدعوک لأھل المدینۃ أن تبارک لھم فی مدھم وصاعھم مثل مابارکت لأھل مکۃ مع البرکۃ برکتین۔( ترمذی شریف: کتاب المناقب، باب ماجاء فی فضل المدینۃ،رقم الحدیث:۳۹۱۴) اے اﷲ!بے شک ابراہیمؑ آپ کے بندے اور خلیل تھے ، انھوں نے اہل مکہ کے لئے برکت کی دعا کی ، اور میں بھی آپ کا بندہ اور رسول ہوں ، میں آپ سے اہل مدینہ کے لئے دعا کرتا ہوں کہ آپ نے اہل مکہ کے لئے جتنی برکتیں رکھی ہیں ، اہل مدینہ کے لئے ان کے مد وصاع( پیمانوں ) میں ان سے دگنی برکتیں عطا فرما۔
چنانچہ آپ ا کی دعا کی برکت سے اس شہر کی وسعت وآبادی اور میووں اور پھلوں اور دیگر تمام اشیاء میں خیر وبرکت روز بروز نمایاں ہے۔
مزید تفصیلات کے لئے مذکورہ بالا کتاب کا مطالعہ کیا جائے۔
بہر حال جس شہر کی اس قدر عظمت وفضیلت ہے ، وہ اس لائق ہے کہ وہاں پیروں کے بجائے سر سے چل کر جایاجائے، اور جس قدر اس کی تعظیم وتوقیر ممکن ہوکی جائے، اور زبان سے کبھی اس کے متعلق حرفِ شکایت نہ نکالاجائے۔ قاضی عیاض مالکی شفاء میں فضائل مدینہ کے بعد لکھتے ہیں کہ: جدیر أن تعظم عرصاتھا وتتنسم نفحاتھا وتقبل ربوعھا وجدرانھا۔(ص: ۲۶۲) یہ شہر اس قابل ہے کہ اس کے میدانوں کی تعظیم کی جائے ، اور اس کی خوشبوؤں کو سونگھا جائے ، اور اس کے درودیوار کو چوماجائے۔