روانہ ہوئے۔ بس طریق الہجرۃ سے جارہی تھی ، یہ وہی راستہ تھا جس سے رسول اﷲ ا ہجرت کے وقت مدینہ منورہ پہونچے تھے۔ مولانا نے کہا کہ دیکھو یہ ہجرت کا راستہ ہے ، رسول اﷲ انے کیسی کیسی دشواریوں سے پہاڑی کا راستہ طے کیا تھا ، اور آج ہم کیسی عمدہ بس پر جارہے ہیں ، یہ سننا تھا کہ دل پر ایک اثر طاری ہوگیا ،کہ رسول اﷲ انے دین کے لئے کس قدرمشقتیں برداشت کی ہیں ۔آج ہم پر بھی اﷲ نے انھیں کے صدقہ و طفیل فضل فرمایا(صلوات اﷲ وسلامہ علیہ) ، کہ ہم بھی اسی شہر کی جانب رواں دواں ہیں ، جو مکہ مکرمہ کے بعد دنیا کا سب سے افضل شہر ہے ،جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب ومحبوب ا کی ہجرت کے لئے منتخب فرمایا، اس شہر کو آپ کی آخری آرام گاہ ہونے کا شرف حاصل ہے، اس شہر کی فضاؤں میں رسول اﷲا اور آپ کے مقدس اصحاب کے انفاس مبارکہ کی خوشبو رچی بسی ہے، اسے ان انفاس قدسیہ کے قدم ہائے مبارک سے بارہا مس ہونے کا شرف حاصل ہے، زبانِ رسالت سے اس شہر کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں ۔ ایک سعودی عالم صالح بن حامد بن سعید الرفاعی نے تو ـ’’الاحادیث الواردۃ فی فضائل المدینۃ‘‘ کے نام سے ۸۰۰؍ صفحات کی ایک ضخیم کتاب لکھ دی ہے، جس میں ان تمام احادیث کو جمع کردیا ہے، جو فضائل مدینہ کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں ۔
اس میں سے چند ایک آپ بھی سن لیں !
رسول اﷲ انے ارشاد فرمایا کہ مدینہ مومنین کے قیام کے لئے بہترین جگہ ہے، اگر وہ اس کی خوبیوں کو جان لیں تو یہاں کا قیام نہ چھوڑیں ، اور جو شخص اس سے بددل ہوکر یہاں کا قیام چھوڑے گا، اﷲ جل شانہٗ اس شخص کا نعم البدل یہاں بھیج دے گا۔
اور فرمایا کہ جو شخص مدینہ طیبہ کے قیام کی مشکلات کو برداشت کرکے یہاں قیام کرے گا، قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا ، یا گواہ بن جاؤں گا۔ نیز ارشاد ہے کہ مدینہ طیبہ کی مٹی مریض کے لئے شفا ہے۔
حضرت عبد اﷲ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ انے فرمایا کہ جو شخص اس