گئیں ۔
حج کے بعدمولانا سفیان احمد صاحب اور حافظ ریاض احمد صاحب بعجلت مدینہ شریف چلے گئے ، میں بیمار ہوا، تو مولانا ظفرؔادیبی صاحب کی اہلیہ محترمہ نے… اﷲ انھیں جزائے خیر عطا فرمائیں … غذا اور پرہیز کے سلسلے میں بہت خدمت کی ، اب ان دونوں بزرگوں کی صحت اچھی تھی ، مولانا مرحوم فرماتے تھے کہ جب آپ نے عرفات میں مختصرسا بیان شروع کیا تو پہلا ہی جملہ اس طرح جسم وجان کو لگا جیسے کرنٹ لگا ہو، اسی وقت سے طبیعت صحیح ہوگئی اور بیماری ایسا لگا جیسے ختم ہوگئی ہو۔
٭٭٭٭٭
مکہ شریف میں جامعہ ام القریٰ کے ایک استاذ نواب معراج مرزا سے ملاقات ہوئی ، اصلاً ان کا خاندان لکھنؤ کا رہنے والا ہے، مگر اب وہ سعودی ہیں ، ان کی والدہ مدینہ شریف رہتی تھیں ۔ بہت خلیق، متواضع، ان کا مکان منیٰ سے متصل عزیزیہ میں ہے، وہ کئی بار اپنے مکان پر لے گئے ، متعدد دعوتیں کیں ، بہت سی کتابیں عنایت کیں ۔
ایک دن وہ اپنی گاڑی سے رات کو چلے اور منیٰ سے آگے مزدلفہ لے گئے ۔ موسم بہت خوشگوارتھا ، ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی ، ایک پاکستانی ہوٹل کے پاس گاڑی روکی، ہوٹل کے ملازمین نے ایک لمبے چوڑے چبوترے پر جس کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے پودے ہرے بھرے عجب پُر بہار منظر پیش کررہے تھے ، قالین بچھادی ، گاؤ تکئے رکھ دئے، کچھ میوے وغیرہ لاکر رکھ دئے ۔ معراج صاحب غائب ہوگئے ، تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے ، تو کہنے لگے کہ ایک بکرا ذبح کرکے آرہا ہوں ، ابھی تھوڑی دیر کے بعد تازہ گوشت پک کر آجائے گا، اورواقعی قدرے انتظار کے بعد عمدہ ہندوستانی طرز کا پکاہوا کھانا ملا۔ آدھی رات کے قریب انھوں نے ہماری قیام گاہ پر پہونچادیا۔
معراج صاحب نے زمزم کا پانی بھرنے میں بہت مدد کی ، اپنی گاڑی میں زمزم کے دس دس لیٹر کے برتن لے گئے ، اور ہم سب کے لئے بھر کر لے آئے ۔