بھی جاکر دیکھ لی ، جس میں ان کا نام تھا ، مگر وہ پورے قیام مکہ میں ہم لوگوں کے ساتھ ہی رہے ۔
اس وقت باب الملک فہد کے حصے کی تعمیر ہورہی تھی ، ہم لوگوں کا قیام حارۃ الباب میں شیخ المشائخ حضرت حاجی امداد اﷲ صاحب مہاجر مکی قدس سرہٗ کی خانقاہ کے قریب تھا ، خانقاہ کی عمارت ٹوٹی پھوٹی شکل میں اس وقت موجود تھی ، لیکن اس میں کوئی رہتا نہیں تھا ۔
حج کا وقت قریب آیاتوفکر ہوئی کہ دیکھئے منیٰ میں خیمے کہاں کہاں ملتے ہیں ، یہاں بھی اﷲ کا کرم ایسا شامل رہا کہ خیمے کے حلقے قریب قریب ہی تھے ، چھوٹے چھوٹے کپڑے کے خیمے تھے ، ہر خیمے میں دس آدمی کی گنجائش تھی ، ہمارے خیمے میں دوآدمی آئے ہی نہیں ، مولانا عبد الرب صاحب یہاں بھی ساتھ ہی رہے ۔
منیٰ میں اچانک اپنے دوعزیزوں سے ملاقات ہوگئی ، یہ مولانا حافظ سفیان احمد صاحب سلّمہ اور حافظ ریاض احمد صاحب سلّمہ تھے ، اوّل الذکر نے غازی پور میں مجھ سے ایک سال پڑھا تھا ، اس وقت یہ دونوں سعودی عرب کے کسی علاقے میں بسلسلۂ ملازمت مقیم تھے ، ان کے ملنے سے بہت خوشی ہوئی، اور قربانی وغیرہ کے مراحل میں بڑی آسانی ہوگئی ۔
میدان عرفات میں حاضری کی سعادت حاصل ہوئی ، جب وقوف کا وقت آیا تو مولانا ظفرؔ ادیبی صاحب نے جو اس وقت بیماری کی وجہ سے بہت کمزور ہوگئے تھے ، مجھے حکم دیا کہ وقوفِ عرفات کے سلسلے میں کچھ بیان کروں ۔ میری ہمت وہاں وعظ وتقریرکی نہ تھی ، میں نے معذرت کی ، مگر باصرار حکم دیا، تو محض پانچ منٹ کچھ عرض کیا ، اتنی سی بات سے مولانا مرحوم کے چہرے پر شگفتگی کے آثار ظاہر ہوئے ، مغرب تک وقوف کی مشغولیت رہی، حسب توفیق دعائیں کی گئیں ، سورج غروب ہونے کے بعد مزدلفہ روانگی ہوئی ۔ مولانا مرحوم کوتو میں نے بس پر بیٹھا دیا، اور ہم تین آدمی مولانا عبد الرب صاحب، حاجی عبد اﷲ صاحب اور بندہ پیدل ہی مزدلفہ چل پڑے۔ اس وقت مزدلفہ میں روشنی اور پانی کا وہ انتظام نہ تھا ، جو اب ہے، وقوف مزدلفہ کا وقت صبح صادق سے شروع ہوتا ہے ، خوب گریہ وزاری سے دعائیں کی